مجھے ہراساں کیا گیا اور زیادتی کا نشانہ بنایا گیا بھارتی شہری ڈاکٹر عظمی کا الزام

پاکستانی شہری سے پسند کی شادی کرنے والی بھارتی خاتون ڈاکٹر عظمیٰ نے الزام لگایا ہے کہ اسے ہراساں کیا گیا اور زیادتی کا نشانہ بنایا گیا ہے۔

ڈاکٹر عظمیٰ نے مقامی عدالت میں 506 ضابطہ فوجداری کی درخواست دائرکی ہے، جس میں موقف اپنایاہے کہ انہیں ہراساں کیا گیا اور اور زیادتی کا نشانہ بنایا گیا جبکہ ان سے امیگریشن دستاویزات بھی چھین لی گئی ہیں۔

دوسری جانب اس معاملے میں اس وقت ٹوئسٹ آ گیا جب بھارتی ہائی کمیشن اسلام آباد نے کہا کہ بھارتی خاتون عظمیٰ نے بھارتی ہائی کمیشن کو پناہ اوربھارت واپس جانے کی درخواست دی ہے۔

پاکستان کے دفتر خارجہ سے جاری بیان کے مطابق بھارتی شہری ڈاکٹرعظمیٰ کے معاملے پر بھارتی ہائی کمیشن نے رابطہ کیا اور بتایا کہ بھارتی شہری عظمیٰ نے طاہرعلی سے شادی کی لیکن پاکستان آکر پتہ چلا کہ طاہر پہلے سے شادی شدہ اور چار بچوں کا باپ ہے۔

دوسری جانب طاہرعلی کا کہنا ہےکہ عظمیٰ جانتی تھی کہ وہ پہلے سے شادی شدہ ہے لیکن اگر عظمیٰ اس کے ساتھ نہیں رہنا چاہتی تو یہ اس کا حق ہے۔

طاہر کے مطابق اس کی بیوی کا تعلق نئی دہلی سے ہے ،دونوں کی پہلی ملاقات ملائیشیا میں ہوئی، تھوڑے عرصے بعد دونوں نے شادی کا فیصلہ کیا، عظمیٰ یکم مئی کو واہگہ کے راستے پاکستان آئی اور 3 مئی کو دونوں نے بونیر میں شادی کی۔

شادی کے دو دن بعد وہ اپنی بیوی کے ساتھ بھارت کا ویزہ لگوانے اسلام آباد میں واقع بھارتی ہائی کمیشن گیاتھاجس کے بعد سے اس کا بیوی سے رابطہ نہیں ہوا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں