متروقہ املاک بورڈ کرپشن کیس میں سابق چیئرمین آصف ہاشمی بے گناہ قرار، جبکہ جانبدار انکوائری کے خلاف آصف اختر ہاشمی کا 10 کروڑ ہرجانہ کرنے کا فیصلہ

اصف ہاشمی نےڈی جی ایف آئی اے محمد املیش،اسیسٹنٹ ڈائریکٹر ایف آئی اے اور ڈائریکٹر انٹر پول کے خلاف متروقہ املاق بورڈ کرپشن کیس میں جانبدار انکوائری کرنے پر 10 کروڑ کرجانے کا دعوٰی کرنے کا فیصلہکرلیا.

متروقہ املاک بورڈ کی زمین غیر قانونی طور پر بیچنے اور کرپشن کے دیگر الزامات کے سلسلے میں سابق چیئرمین متروقہ املاک بورڈ کو دبئی سے انٹر پول کے ذریعے 6 اپریل 2016 کو بغیر رہڈ وارنٹ گرفتار کیا گیا ڈی جی ایف آئی اے نے ان کے خلاف ریڈ وارنٹ جاری کیا تھا.

جبکہ وزارت خارجہ نے خود ایف آئی اے کو واضح طور پر بتایا تھا کہ اخبار میں اشتہار دیے بغیر ریڈ وارنٹ جاری نہیں ہو سکتے.لحاظہ وزارت خارجہ کے نوٹیفیکیشن کے مطابق آصف ہاشمی کو جس ریڈ وارنٹ کے ذریعے گرفتار کیا گیا اس کی کوئی قانونی حیثیت نہیں ہیں .
واضح رہے کہ متروقہ املاک بورڈ کسی رقبے کو پاس کرنے کا اختیار نہیں رکھتا متروقہ املاک بورڈ صرف تجویز دے سکتا ہے جبکہ فیصلہ کر نے کا اختیار وفاق کے پاس ہے. ایف ائی اے کی جانب سے چالان کے مطابق آصف اختر ہاشمی بے گناہ ثابت ہوتے ہیں.
دوسری جانب غفار سومرو وفاقی سیکریٹری اور جوائنٹ سیکرٹری طاہر علی شاہ اور ڈاکٹر ناظر جو کہ اصل مجرم ہیں کو بچانے کی کوشش کی گئی ہے. یہ تمام افراد پاکستان میں موجود تھے لیکن ان کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی گئی.

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں