مال روڈ دھماکے میں ملوس سہولت کار بھائی سمیت پولیس مقابلے میں ہلاک

مناواں پولیس مقابلے میں ہلاک ہونے والے دو بھائیوں کے حوالے سے انکشاف ہوا ہے کہ مال روڈ خود کش حملہ میں اصل سہولت کار انوار کابھائی عبداللہ تھا، عبداللہ نے ہی اپنے بھائی انوارالحق کو امام شاہ نامی شخص نے مال روڈ پر خود کش حملہ آور پہنچانے کا ٹاسک دیا تھا تاہم انوار کے بھائی عبداللہ کی گرفتار کے بعد حساس اداروں اور کاﺅنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ پنجاب نے اس نیٹ ورک کو بریک کرتے ہوئے اس نیٹ ورک کے دیگر ساتھیوں کو حراست میں لے لیا تھا، جن سے تقریباً 48 دن تفتیش کی گئی ہے۔
زرائع کے مطابق کاﺅنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ نے انوارالحق کو جیسے ہی حراست میں لیا اس نے دوران تفتیش بتایا کہ اس کا بھائی عبداللہ دھماکہ میں اس کا ساتھی تھا اور اس کے بھائی کا ہی اس نیٹ ورک کے سرکردہ افراد سے رابطہ تھا۔ انوارالحق کا جو سابقہ بیان سامنے آیا تھا اس سے یہ ثابت کرنا تھا کہ انوارالحق نے تمام الزام اپنےا وپر لے لیا ہے لہٰذا پولیس نے انوارالحق کی گرفتاری کے کچھ دن بعد ہی اس نیٹ ورک کے دیگر افراد کو بھی حراست میں لے لیا تھا۔ یہ بھی معلوم ہواہے کہ مال روڈ دھماکہ کے خود کش بمبار کو انوارالحق کا بھائی عبداللہ علاقہ غیر سے لے کر آیا تھا۔ جس کے بعد دونوں بھائی اس کا خیال رکھتے تھے، جس کے بعد سی ٹی ڈی اور حساس اداروں نے جیسے ہی عبداللہ کو گرفتار کیا اس نے بتایا کہ اس کی ٹیم میں مزید 2 افراد شامل ہیں جو کالعدم تنظیم جماعت الحرار کے لئے فنڈ اکٹھا کرنے سمیت دیگر کارروائیاں کرتے ہیں جن میں امام شاہ نامی شخص راولپنڈی اور اسلام آباد میں بڑے پیمانے پربھتہ وصول کرتا ہے اور یہ بھاری معاوضہ لے کر ٹارگٹ کلنگ کرتا ہے۔
رپورٹ کے مطابق خیبرپختونخوا کی پولیس کی مدد سے پنجاب پولیس نے امام شاہ کو حراست میں لیا تو اس نے بتایا کہ دراصل مال روڈ دھماکے کے لئے خود کش جیکٹ عطاءالرحمان نامی شخص نے فراہم کی تھی۔ لہٰذا پولیس نے بعدازاں عطاءالرحمان، عرفان خان کو بھی حراست میں لے لیا، جن کی نشاندہی پر ان کے مزید 5 ساتھی گرفتار کرلئے گئے جن سے ابھی مزید تفتیش جاری تھی کہ بیدیاں روڈ خود کش دھماکہ ہوگیا کیونکہ مال روڈ اور بیدیاں روڈ خود کش دھماکوں میں بڑی مسابقت تھی اس لئے انوارالحق اور اس کے دیگر ساتھیوں کو بیدیاں روڈ خود کش حملہ آورکا خاکہ بھی دکھایا گای تاہم انوارالحق نے کاہ کہ وہ خود کش حملہ آور کو نہیں جانتا تاہم انوارالحق نے اقرار کیا کہ بیدیاں روڈ والا دھماکہ بھی اسی نیٹ ورک نے کروایا ہے جس نے ہمیں استعمال کیا اور یہ نیٹ ورک افغانستان سے آپریٹ ہوتا ہے۔ انوارالحق نے دوران تفتیش یہ بھی بتایا کہ انہیں ہدایات افغانستان سے ملتی تھیں اور وہ جو بھی بات اور ہدایات لیتے وہ ایک دوسرے سے مل کر دیتے اور موبائل فونز کا استعمال کم ہوتا تھا اور انہیں صرف امام شاہ ملتا تھا لہٰذا اس سے اوپر جو نیٹ ورک ہوتا ہے اسکا کسی کو علم نہیں ہوتا۔ اس طرح امام شاہ دیگر سے مل کر ایک نیٹ ورک بناتا تھا۔ انوار نے یہ بھی بتایا کہ اس خود کش حملہ سے قبل تقریباً 6 ماہ سے ان کی فیملی کے اخراجات امام شاہ برداشت کرتا تھا اور انہیں مال روڈ دھماکہ کا ٹاسک دماکہ سے صرف 20 دن قبل دیا گیا تاہم انہیں یہ نہیں بتایا گیا کہ یہ دھماکہ مال روڈ پر کرنا ہے۔ دھماکہ سے 2 دن قبل ان کی ملاقات ایک نامعلوم شخص سے ہوئی اورپھر انہیں بتایا گیا کہ اب کارروائی کرنے کا دن آگیا ہے جس کے بعد انہیں تمام منصوبہ بتایا گیا۔ ذرائع کا یہ بھی کہنا ہے کہ انوارالحق اور ان کے ساتھیوں سے ابھی مزید تفتیش کرنی تھی کہ بیدیاں روڈ دھماکہ ہوگیا جس کے بعد حساس اداروں نے حکومت کو خبردار کیا کہ دہشتگرد اپنے ساتھیوں کو چھڑانے کے لئے مزید کارروائی کرسکتے ہیں لہٰذا اب ان سے تفتیش مکمل کرلی جائے جس کے بعد انوارالحق کو اس کے دیگر ساتھیوں کے ہمراہ مناواں کے علاقہ میں لے جایا گیا اور وہاں اس کے دیگر ساتھیوں نے انہیں چھڑانے کی کوشش کی اور ایک ”مبینہ“ پولیس مقابلے میں تمام دہشتگردوں کو پار کردیا گیا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں