لندن ایک بار پھر دہشت گردی کا شکار

برطانوی دارالحکومت ایک بار پھر پرتشدد واقعات کی لپیٹ میں آگیا جس کے نتیجے میں 7 افراد ہلاک اور 20 زخمی ہو گئے۔
برطانوی میڈیا کے مطابق پہلے واقعے میں لندن برج پر تیز رفتار گاڑی نے راہ گیر کچل دیئے اور اس میں موجود حملہ آوروں نے شہریوں پر چھریوں کے وار سے حملے کئے جس کے نتیجے میں 20 افراد زخمی ہوئے، واقعہ کے بعد لندن برج اور قریب ہی واقع قریب ریلوے اسٹیشن کو بند کر دیا گیا۔ لندن پولیس کے مطابق گاڑی سے 3 افراد نے اتر کر لوگوں پر فائرنگ کی اور چاقوؤں سے حملہ کیا جس سے خوفزدہ ہو کر وہاں موجود کئی افراد نے دریا میں چھلانگیں لگا دیں۔
اس کے علاوہ بارو مارکیٹ اور ووکس ہال میں بھی فائرنگ اور چاقو سے حملوں کی اطلاعات موصول ہوئیں تاہم میڈیا کے مطابق بارو مارکیٹ اور ووکس ہال میں 2 حملہ آور مارے گئے جب کہ حملوں میں ملوث ایک شخص کو ووکس ہال سے گرفتار کرلیا گیا۔
لندن میں پرتشدد واقعات کے بعد برطانوی وزیراعظم تھریسامے نے فوری طور پر سیکیورٹی اجلاس طلب کر لیا اور کہا کہ لندن واقعات کو ممکنہ دہشتگردی کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
دوسری جانب لندن حملوں کے ردعمل میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے قومی سلامتی کے اداروں کو بریفنگ میں کہا ہے کہ برطانیہ کی ہر قسم کی مدد کے لیے تیار ہیں تاہم امریکی شہریوں کو چونکا اور مضبوط رہنا ہو گا۔ انہوں نے کہا کہ امریکی و برطانوی شہریوں کے تحفظ کے لیے ضروری ہے سفری پابندیوں کا اطلاق ہو۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں