قطر کس بات پر اڑ گیا کہ سعودی عرب کی نیندیں حرام ہوگئیں!

قطری وزیر خارجہ شیخ محمد بن عبدالرحمن الثانی نے پیر کو دارالحکومت دوحہ میں صحافیوں سے بات چیت کی، قطر کے وزیر خارجہ نے کہا ہے کہ قطر اس وقت تک عرب ممالک سے بات چیت نہیں کرے گا جب تک کہ ان پر عائد معاشی اور سفری پابندیاں نہیں ہٹائی جاتیں۔وزیر خارجہ شیخ محمد بن عبدالرحمن الثانی نے پیر کو صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ‘قطر پر پابندیاں عائد ہیں اس لیے کوئی بات چیت نہیں ہوگی۔ بات چیت کے لیے انھیں پابندیاں ہٹانی ہوں گی۔’انھوں نے دوحہ میں قائم الجزیرہ نیٹ ورک کے مستقبل سمیت قطر کے داخلی امور کے متعلق کسی بات چیت کو مسترد کر دیا۔قطری وزیر خارجہ نے کہا ہے کہ وہ اگلے ہفتے امریکہ کا دورہ کریں گے جس میں امریکی حکام کے ساتھ عرب ممالک کے ساتھ تنازعے کے باعث قطر کی معیشت اور دہشت گردی کے خلاف جنگ پر اثرات پر بات چیت کریں گے۔
انھوں نے کہا: ‘ابھی تک پابندیوں کے اٹھائے جانے کی جانب کوئی پیش رفت نہیں دیکھی جا رہی اور یہ کسی قسم کے پیش رفت کی شرط اولین ہے۔’دارالحکومت دوحہ میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ ابھی تک قطر کو سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور بحرین کی جانب سے کوئی مطالبہ نہیں ملا ہے۔مختلف عرب ممالک نے قطر سے اپنے زمینی اور فضائی روابط منقطع کر لیے ہیں
خیال رہے کہ ان ممالک نے دو ہفتے قبل قطر سے اپنے رشتے منقطع کر لیے تھے اور اس کے نتیجے میں حالیہ برسوں میں خلیجی ممالک کا بدترین بحران پیدا ہو گیا ہے۔وزیر خارجہ نے کہا کہ چھ ملکی خلیجی تعاون کونسل کے متعلق امور پر ان سے بات چیت ہو سکتی ہے۔ اس کونسل میں قطر، سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، بحرین، کویت اور عمان شامل ہیں۔انھوں نے کہا کہ ‘جو چیزیں ان سے متعلق نہیں ہیں ان پر کوئی بات چیت نہیں ہوگی۔ کسی کو بھی ہمارے اندرونی معاملے میں مداخلت کا حق نہیں ہے۔’عبدالرحمن الثانی نے کہا کہ ‘الجزیرہ ہمارا اندرونی معاملہ ہے۔ علاقائی معاملے پر قطری خارجہ پالیسی ہمارا داخلی معاملہ ہے اور ہم اپنے داخلی امور پر بات چیت نہیں کریں گے۔’قطر کو اب تک سعودی عرب سے 40 فیصد اشیائے خوردنی مہیا ہوا کرتی تھی، انھوں نے کہا کہ ہم مبہم مطالبات کو قبول نہیں کر سکتے جیسے کہ قطر یہ جانتا ہے کہ ہم ان سے کیا چاہتے ہیں، انھیں یہ روکنا ہے اور وہ بند کرنا ہے، بیرونی نگرانی کے نظام کے تحت ان کی نگرانی کی جائے گی۔خیال رہے کہ حالیہ بحران سے شہریوں کے سفر، کھانے کی اشیائے کی درآمد وغیرہ متاثر ہوئی ہے۔وزیر خارجہ نے کہا کہ اگر ان کے ملک کا بائیکاٹ جاری رہا تو وہ علاقے کے دوسرے ممالک پر بھروسہ کریں گے جن میں سعودی عرب کا حریف ایران بھی شامل ہے۔انھوں نے کہا کہ ‘ہمارے پاس متبادل منصوبہ ہے جو ترکی، کویت اور عمان پر مبنی ہے۔’ایران نے ہماری پرواز کے لیے فضائی سہولت دی ہے اور ہم ان تمام ممالک کے ساتھ تعاون کر رہے ہیں جو قطر کو رسد پہنچانے کی یقین دہانی کرائے۔’

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں