عوام کا وزیرداخلہ سے سوال؟ادارے شفاف تحقیقات کیسے کرسکتے ہیں؟

جب ملک کا وزیر داخلہ ملزمان کا ڈرائیور بن کر انہیں جے آئی ٹی میں پیشی کے لیے لے کر آئے؟؟ جس کے ماتحت ایف آئی اے بھی ہو اور نیب بھی ؟
جب 2500 سکیورٹی اہلکار ملزمان کی سیکورٹی پر مامور ہوں اور روزے دار سڑکیں بند ہونے کی وجہ سے دھوپ میں خوار۔۔
یہ پیغام ہے تمام اداروں اور جے آئی ٹی کے لیے کہ ہم ہیں گارڈ فادر؟ ہم ملزم
ہیں لیکن عہدوں پر بیٹھے ہیں، ہم ملزمان لیکن پرٹوکول پورا لیں گے، تمام افسران ہم سلیوٹ کریں گے، ہمارے لیے روٹ لگیں گے۔۔۔
تو پھر ذرا سوچیئے؟
کیوں اداروں کے سربراہان جے ائی ٹی پر حملہ آور نہ ہوں،؟ کیا انہوں اس ملک میں نہیں رہنا۔۔کیا انہوں نے آگے نوکری یا ترقی نہیں کرنی ؟۔۔۔کیا انہوں نے اپنے بچوں کامستقبل نہیں دیکھنا۔۔۔؟
،، ایسے حالات میں جے آئی ٹی افسران کس حد تک دباو سے یا خوف سے آزاد ہوسکتے ہیں۔۔؟؟ پردے کے پیچھے جے آئی ٹی پر کتنا دباو ڈالا جا رہے اس کا اندازہ لگانا اب مشکل نہیں ریا۔۔ انکے اہل خانہ تک کو حراساں کیا جا رہاہے، لیکن اگر وزیر اعظم اور وزیر اعلی اپنے عہدوں سے الگ ہوجاتے تو شاہد صورت حال کچھ مختلف ضرور ہوتی .

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں