عمران سابقہ بیوی سے کہتے ہیں ٹویٹ کردو میری جان بچ جائےگی. حنیف عباسی

مسلم لیگ (ن) کے رہنما حنیف عباسی کا کہنا ہے کہ عمران خان عجیب نرالے آدمی ہیں کہتے ہیں جو دے دیا بس اسے مان لیا جائے اور قوم کو گمراہ کرنے کے لئے سابقہ بیوی جمائما سے کہتے ہیں ٹویٹ کردو میری جان بچ جائے گی۔
سپریم کورٹ کے باہر میڈیا سے بات کرتے ہوئے مسلم لیگ (ن) کے رہنما حنیف عباسی کا کہنا تھا کہ عمران خان کا وکیل باربار ضد کر رہا ہے کہ ہم نے تلاشی نہیں دینی ججز نے کئی سوالات رکھے لیکن انہوں نے کوئی جواب نہیں دیا، عمران خان عجیب نرالا آدمی ہے کہتا ہے جو دے دیا مان لیا جائے اور 10 روز قبل قوم کو گمراہ کرنے کے لیے سابقہ بیوی کو فون کیا اورکہا کہ ٹوئٹ کردیں میری جان بچ جائےگی۔
حنیف عباسی کا کہنا تھا کہ پاکستان کی 70سالہ تاریخ میں عمران خان جیسا جھوٹا نہیں دیکھا، ہم نہیں کہتے کہ آپ نے ہندو اور یہودیوں سے پیسا لیا آپ کو صرف سپریم کورٹ میں آکر بتانا ہے کہ میں نے پیسا اس ذریعے سے حاصل کیا لیکن آپ بیرونی امداد کا دفاع کر رہے ہیں اورسپریم کورٹ اور الیکشن کمیشن سے بھاگے ہوئے ہیں ابھی تو آپ کو بہنوں کے نام آف شور کمپنیوں کے جواب دینے ہیں اب ٹویٹ ٹویٹ کھیلنا بند کریں اورعدالت عظمیٰ میں آکر جواب دیں۔
اس خبرکوبھی پڑھیں: عمران خان کی تین آف شور کمپنیوں کے شواہد سپریم کورٹ میں جمع
رہنما مسلم لیگ(ن) دانیال عزیز کا کہنا تھا کہ عمران خان کے خلاف ہم نے منتیں کرکے کیس لگوایا ابھی تک تو جہانگیر ترین کے خلاف کیس دائر کیا ہی نہیں اور یہ کیس منفرد انداز میں عجیب و غریب چوراہے پر آکر کھڑا ہوگیا، عمران خان کے وکیل انور منصور پچھلی عدالتوں میں فارن فنڈنگ کا مان چکے الیکشن کمیشن نے صاف بتایا کہ انھوں نے فارن فنڈنگ ہونے کا نہیں بتایا۔
اس خبرکوبھی پڑھیں: وزیراعظم سے دشمنی میں عمران خان خودکش بمبار بنتے جا رہے ہیں
اس موقع پر طلال چوہدری کا کہنا تھا کہ آج کل جے آئی ٹی کے بڑے چرچے ہیں پاناما کیس کو قانونی ہونا چاہئے تھا لیکن اسے سیاسی بنا دیا گیا ہے اور ایک کیس میں 4 ملکوں میں گلی گلی ثبوت ڈھونڈھے جارہے ہیں لیکن کچھ نہیں مل رہا روز بیانات بھی بدلے جاتے ہیں عمران خان انٹرویو کچھ دیتے ہیں اور الیکشن کمیشن میں لکھ کر کچھ کہتے ہیں ان کی سابقہ بیوی جمائما پہلی ٹوئٹ میں کچھ اور دوسری ٹوئٹ میں کچھ کہتی ہیں سپریم کورٹ کو چاہئے کہ وہ کیس کو لٹکانے کے بجائے جلد فیصلہ کرے۔
طلال چوہدری کا کہنا تھا کہ ریکارڈ ٹیمپرنگ تو بہانہ ہے جے آئی ٹی خود ٹیمپر ہو چکی ہے، جے آئی ٹی خود بچنا چاہتی ہے یا کسی کو بچانا چاہ رہی ہے، جے آئی ٹی وزیراعظم کو تو طلب کرتی ہے لیکن حسین نواز کی تصویر لیک کرنے والے کا نام نہیں لیتی ہم نے درخواست میں کہا ہے کہ جے آئی ٹی نے تصویر لیک کی ہے اس کے خلاف کارروائی کی جائے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں