عزیر بلوچ فوج کی تحویل میں


لیاری گینگ وار کے سرغنہ عزیر بلوچ کو فوج نے تحویل میں لے لیاہے۔ اس کے خلاف فوجی عدالت میں مقدمہ چلایا جائے گا۔
عزیر بلوچ کو فوج نے پاکستان آرمی ایکٹ 1923 کے تحت تحویل میں لے لیاہے،عزیر بلوچ پر حساس ملکی معلومات غیر ملکیوں کو دینے کا الزام ہے۔

ذرائع کے مطابق عزیر بلوچ نے چند دن قبل دوران تفتیش اس بات کا اعتراف کیا تھا کہ وہ انڈین ایجنسی را سمیت ایک اورپڑوسی ملک کی ایجنسی سے بھی رابطہ میں تھا ۔

عزیر بلوچ نے یہ بھی مانا تھا کہ وہ ملٹری کورٹ کی جانب سے سزائےموت سنائے گئے بھارتی جاسوس کلبھوشن یادیو سے بھی رابطے میں تھا ۔
جس کے بعد عزیر بلوچ کا مقدمہ بھی اب ملٹری کورٹ میں چلانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

عزیر بلوچ کو54 مقدمات کاسامنا ہے، جن میں ارشد پپو کیس، انسپکٹر فواد خان کا قتل، پولیس اہلکاروں کے قتل، حساس ادارے کے اہلکاروں کا قتل جیسے مقدمات شامل ہیں۔

عزیربلوچ کالعدم بلوچ قوم پرست تنظیمو ں اور مذہبی تنظیموں کو بھی مدد فراہم کرتا رہاہے.
عزیر بلوچ فشری سے حاصل لاکھوں روپےکی رقم لیاری میں گینگ وار کے لئے استعمال کرتا رہاتھا۔

ذرائع کے مطابق عزیر بلوچ بیرونی طاقتوں کی مدد سے لیاری کے ذریعے کراچی اور پاکستان کو غیر مستحکم کرنے کے لیےکام کر رہا تھا

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں