محمد رضا قصوری کے قتل سے زوالفقار علی بھٹو کے عدالتی قتل تک

ذوالفقار علی بھٹو کی صدر ایوب کے خلاف چلائے جانے والی تحریک سے جس طرح ملک کے نوجوانوں کا ایک بڑا حصہ بھٹو صاحب کے نظریات سے متاثر ہو کر اس تحریک کا حصہ بنا وہیں کئی منافقین ایسے بھی تھے جو ایک مخصوص ایجنڈے کے تحت بھٹو صاحب کے ہمراہ چل پڑے اور جب ان کا ایجنڈا پورا ہو گیا تو دوبارہ اپنی اصلیت پر آگئے اسی طرح کے ایک ساتھی احمد رضا قصوری بھی تھے جس نے سمجھا کہ اس کے ذاتی مفادات کو بھٹو صاحب کی ہمراہی میں ہی پورا کیا جا سکتا ہے اس لیے اس نے پیپلزپارٹی جوائن کر لی اور جلد ہی وہ بھٹو صاحب کے چند چہیتے نوجوانوں میں شامل ہو گئے….70 کے الیکشن میں قصوری کو پیپلزپارٹی کا ٹکٹ مل گیا اور وہ ایم این اے بن گئے اس کے علاوہ وہ پیپلزپارٹی کی سنٹرل ایگزیکٹو کمیٹی کے ممبر بھی تھے. ..ان دنوں اقتدار کی پرامن منتقلی کے لئے سیاسی جماعتوں اور مارشل لا ایڈمنسٹریٹر یحیی خان کے درمیان رسہ کشی جاری تھی اس دوران پیپلزپارٹی کی سنٹرل ایگزیکٹو کمیٹی کی ایک اہم میٹنگ ہوئی جس میں ذوالفقار علی بھٹو نے یحیی خان کے بارے میں چند سخت الفاظ استعمال کیے ….ان دنوں لاہور میں سپیشل برانچ کے انچارج آغا محمد علی تھے جو کہ رشتہ میں یحیی خان کے بھائی تھے. ..پیپلزپارٹی کی سنٹرل ایگزیکٹو کمیٹی میں ہونے والی تمام باتیں اگلے روز آغا محمد علی تک پہنچ چکی تھیں اور وہاں سے ہی بھٹو صاحب کے کسی چاہنے والے بیوروکریٹ کے کانوں میں بھی پڑیں تو اس نے بھٹو صاحب کو تمام صورتحال سے آگاہ کیا. .بھٹو صاحب سر پکڑ کر بیٹھ گئے کہ جب 25 آدمیوں کی سنٹرل ایگزیکٹو کمیٹی میں بھی ان کی کہی ہوئی بات محفوظ نہیں رہ سکتی تو وہ ملک کا نظام ان ساتھیوں کے دم پر کیا خاک چلائیں گے؟ ؟. .بھٹو صاحب نے اس معاملے کو بڑا سنجیدگی سے لیا جلد ہی وہ اس مخبر تک پہنچ گئے…..
اس روز بھٹو صاحب فلیٹیز ہوٹل لاہور میں پارٹی رہنماؤں سے علیحدہ علیحدہ مل رہے تھے ملک معراج خالد اور بھٹو صاحب کی ملاقات جاری تھی. .ملک مصطفٰی کھر اور ڈاکٹر مبشر حسن بھی کمرے میں موجود تھے کہ اوپر سے احمد رضا قصوری بھی کمرے میں داخل ہو گئے. .بھٹو صاحب نے احمد رضا قصوری کو مخاطب کرتے ہوئے کہا قصوری بہت سستے میں تم نے اپنا ضمیر بیچا ہے. ..احمد رضا قصوری بھٹو صاحب کے اس بدلے لہجے اور اس سوال سے دم بخود رہ گئے اور گھبرائی ہوئی آواز میں پوچھا کہ کیا مطلب؟ بھٹو صاحب نے اسے تفصیل سے بتایا کہ مال روڈ پر موجود انڈس ہوٹل میں فلاں روز تم نے فلاں شخص سے بھورے رنگ کے بریف کیس میں موجود 30 ہزار وصول کیے جس میں سے 15 ہزار کی تم نے کرولا کار خریدی اور باقی پندرہ ہزار آپ کے بنک اکاونٹنٹ میں جمع ہو گئے تھے
اس کے بعد بھٹو صاحب نے احمد رضا قصوری کو کبھی بھی اپنے پاس بھٹکنے نہیں دیا. ..جب احمد رضا قصوری نے سمجھا کہ وہ پیپلزپارٹی میں دوبارہ وہ جگہ حاصل نہیں کر سکتا تو وہ اپوزیشن سے مل گیا اور اس کے بعد اسمبلی کے اندر اور باہر بھٹو صاحب کے بارے میں بہت ہی گھٹیا زبان استعمال کرنے لگا ..اس کا واحد مقصد تھا کہ اس کے اس گندے اور گھٹیا پن کا بھٹو صاحب نوٹس لیں اور کوئی ایسا کام کریں جس سے احمد رضا قصوری کا سیاسی قد بڑھ جائے لیکن بھٹو صاحب نے نہایت ہی سختی سے تمام پارٹی اکابرین کو روک دیا کہ قصوری کو بالکل سنجیدگی سے نہیں لینا
1973 کے آئین کی منظوری کی دستاویز پر تقریبا ہر ممبر اسمبلی کے دستخط ہیں لیکن قصوری نے اس پر بھی دستخط نہیں کیے
گیارہ نومبر 1974 کی رات کو احمد رضا قصوری اپنی گاڑی چلا رہے تھے جبکہ گاڑی کی فرنٹ سیٹ پر اس کے والد محمد رضا قصوری بیٹھے تھے جب وہ شادمان لاہور پہنچے تو ان کی گاڑی پر فائرنگ کی گئی اور گولیاں فرنٹ سیٹ پر بیٹھے ان کے والد کو لگیں. .احمد رضا قصوری گاڑی دوڑا کر گلبرگ میں موجود یونائیٹڈ کرسچین ہسپتال لے آئے لیکن ہسپتال میں پہنچنے سے پہلے ہی محمد رضا قصوری مر چکے تھے ..احمد رضا قصوری اچھرہ تھانہ پہنچ گئے اور بھٹو صاحب کے خلاف ایف آئی آر کے اندراج کی درخواست دے دی. وہ ایسا دور تھا جس وقت پنجاب پولیس کے بڑے بڑے افسران گورنر پنجاب غلام مصطفٰی کھر کا نام سن کر سہم جاتے تھے تو بھلا یہ کیسے ممکن تھا ایک ایس ایچ او ملک کے وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو کے خلاف قتل کی ایف آئی آر درج کر لیتا. پولیس کے اعلی افسران نے غلام مصطفٰی کھر سے رابطہ کیا ..غلام مصطفٰی کھر نے آدھی رات کو بھٹو صاحب کو ساری صورتحال سے آگاہ کیا. آگے سے اس عظیم شخص نے غلام مصطفٰی کھر کو ڈانٹ کر کہا کہ اگر وہ کسی عام آدمی کا نام ایف آئی آر میں درج کرواتا تو بھی تم مجھے آدھی رات کو جگا کر یہ سوال پوچھتے.؟؟ کھر صاحب کا جواب منفی میں آنے کے بعد بھٹو صاحب نے کھر صاحب کو کہا کہ خدا کی قسم قانون کی نظر میں جتنی اہمیت اس ملک کے ایک مزدور کی ہے اس سے کئی گنا کم وقت میری ہوگی تو ہی اس جمہوریت کے فوائد عوام تک پہنچ سکیں گے …ایف آئی آر درج کروانا قصوری کا پاکستانی شہری کی حیثیت سے حق ہے اور اس حق سے اسے کوئی محروم نہیں کر سکتا
بھٹو صاحب کے خلاف اچھرہ کے تھانہ میں اقدام قتل میں معاونت کا مقدمہ درج ہو چکا تھا اور قصوری اور اپوزیشن نے اسے اپنے سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کرنا شروع کر دیا تھا 20 نومبر کو اپنے والد کی وفات کے محض 9 دن بعد قصوری خون سے بھری بوتل اور خون سے لتھڑے کپڑے لے کر اسمبلی میں پہنچ گیا اور لہرا لہرا کر کہتا رہا کہ یہ میرے باپ کا خون ہے اور میں اس کا حساب بھٹو صاحب سے لوں گا

بھٹو صاحب نے اس وقت کے سب سے معتبر اور قابل احترام جج جسٹس شفیع الرحمٰن کی سربراہی میں ایک جوڈیشل کمیشن تشکیل دیا جس نے کوئی معقول شہادت موجود نہ ہونے کی بنیاد پر بھٹو صاحب کو اس قتل میں بے گناہ قرار دے دیا
وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ احمد رضا قصوری کو احساس ہونے لگا کہ بھٹو صاحب کے خلاف قتل کا مقدمہ درج کر کے اور بدترین زبان استعمال کر کے وہ جس قسم کی سیاسی ہمدردی اور شہرت حاصل کرنا چاہتا تھا وہ تو اسے ملی نہیں بلکہ وہ اپنے حلقہ کے ووٹر کی نظروں سے بھی گر گیا ہے اس لیے اپنے سیاسی کیریئر کو بچانے کے لیے اسے دوبارہ بھٹو صاحب کی حمایت کی ضرورت پڑے گی …اس مقصد کے حصول کے لئے اس نے اپنے ایک دوست کے گھر میں بیگم نصرت بھٹو کے ساتھ ملاقات کی اور بیگم صاحبہ سے کہا کہ اگر بھٹو صاحب میرے گھر میں مجھے منانے آ جائیں تو وہ دوبارہ پارٹی میں واپس آ سکتا ہے لیکن کیونکہ ذوالفقار علی بھٹو کی نظروں سے وہ بہت زیادہ گر چکا تھا اس لیے بھٹو صاحب نے بیگم صاحبہ کی اس تجویز پر خاص توجہ نہ دی. . شاید چند لوگ اس حقیقت سے بھی واقف ہوں کہ .1977 کے الیکشن میں احمد رضا قصوری نے پیپلزپارٹی کے ٹکٹ کے حصول کے لئے اپنی درخواست بھی جمع کروائی تھی. ..اگر بیگم صاحبہ سے ملاقات اور ٹکٹ کے حصول کے لئے دی گئی درخواست کی حقیقت کے بارے میں کسی دوست کو شک ہو تو میں باقاعدہ ثبوت پیش کر سکتا ہوں. .خیر بھٹو صاحب کے 1977 کے الیکشن میں قصوری کی ٹکٹ کی درخواست کو مسترد کر نے کے عمل نے ایک بار پھر قصوری صاحب کی تمام امیدوں پر پانی پھیر دیا 1977 کے الیکشن میں اپوزیشن کو خاطر خواہ کامیابیاں نہ ملیں تو انہوں نے بھٹو صاحب پر الیکشن میں دھاندلی کروانے کا الزام لگا کر تحریک چلا دی اپوزیشن کا یہ اتحاد 9 جماعتوں پر مشتمل تھا جس کا نام پی این اے تھا لیکن زیادہ لوگ اسے نو ستاروں سے جانتی ہے. .اصغر خان مفتی محمود ولی خان نواب زادہ نصراللہ خان جیسے لوگ اس کی قیادت کر رہے تھے. .
اگرچہ بھٹو صاحب اور پی این اے کی لیڈرشپ کے دوران معاہدہ طے پا گیا تھا اور بھٹو صاحب دوبارہ الیکشن کروانے کے لیے تیار ہوگئے تھے

لیکن جب ضیا الحق کو پتا چلا تو اس نے اسی رات 5 جولائی کو مارشل لا لگا دیا اور بھٹو صاحب اور ان کی پوری کابینہ کو ایک مہینہ کے لیے نظر بند کر دیا 29 جولائی کو بھٹو صاحب کی نظر بندی ختم ہوئی تو انہوں نے عوامی رابطہ مہم تیز کر دی اور مختلف شہروں میں سیاسی تقریبات میں حصہ لینے لگے ان کے پیچھے ان کے خلاف ضیا الحق احمد رضا قصوری سے مل کر ایک بہت بڑا جال بچھا رہا تھا محمد رضا قصوری کے قتل کے مقدمہ کی دوبارہ سنوائی کی درخواست دی گئی اور 3 ستمبر کو انہیں اس مقدمے کے سلسلے میں گرفتار کر لیا گیا 13 ستمبر کو جسٹس کے ایم صمدانی نے مناسب شواہد نہ ہونے کی بنیاد پر بھٹو صاحب کو ضمانت پر رہا کر دیا جسٹس صمدانی کو اس فیصلے کے سبب اپنے عہدے سے فارغ کر دیا اب اس کے مستقبل کا فیصلہ وزارت قانون کی صوابدید پر تھا ٹھیک تین دن بعد 16 ستمبر کو بھٹو صاحب کو تیسری مرتبہ گرفتار کر لیا گیا اور لاہور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس مولوی مشتاق کی سربراہی میں ایک پانچ رکنی بنچ کے سامنے محمد رضا قصوری کے قتل کا مقدمہ چلانے کا فیصلہ کیا گیا مولوی مشتاق بھٹو صاحب کے شدید مخالفت تھے
م

کیونکہ بھٹو صاحب نے اپنے دور میں مولویمشتاق کو چیف جسٹس بنانے سے انکار کر دیا ..

24 اکتوبر کو مقدمہ کا باقاعدہ آغاز ہوا …بھٹو صاحب کے لیے عدالت میں لوہے کا ایک پنجرہ بنایا گیا تھا جس کا مقصد صرف اور صرف بھٹو صاحب کی تضحیک کرنا تھا بھٹو صاحب کا بیان 25 جنوری کو شروع ہوا …بیان کے ریکارڈ کروائے جانے کے دوران استغاثہ کے وکلا کی بجائے جج زیادہ متحرک نظر آئے. ..بار بار بھٹو صاحب کو ٹوکنا…..تضحیک انداز میں پیش آنا اور بار بار اسے کہنا کہ تمہارے دماغ سے اب تک وزیراعظم والا دور نہیں نکلا ہم تمہیں یاد دلا دیں کہ تم قتل کے مقدمہ میں اب مرکزی ملزم ہو
اس مقدمے کو چلانے کے لیے ضیا الحق نے مارشل لا لگانے سے پہلے ہی ساری حکمت عملی بنا رکھی تھی اس مقدمے میں بنیادی گواہ مسعود محمود تھے جو کہ فیڈرل سیکورٹی فورس FSF کے سربراہ تھے یاد رہے کہ اسی FSF کا بعد میں نام تبدیل کر کے FIA رکھا گیا جس دن مارشل لا لگا اسی دن مسعود کو گرفتار کر لیا گیا اورمقدمہ میں گواہی تک وہ مسلسل قید میں تھے اس کے علاوہ FSF کے چار اور اہلکار بھی اس مقدمے کے ملزم تھے جنہوں نے گواہی دینی تھی … اس مقدمے کا واحد گواہ مسعود محمود تھا جو کہ یہ دعوی کرتا تھا کہ بھٹو صاحب نے اسے احمد رضا قصوری پر حملے کا کہا باقی تمام گواہوں میں سے کسی ایک نے بھی براہ راست بھٹو صاحب کو نہیں سنا تھا بلکہ کسی نے کہا کہ مجھے مسعود صاحب نے بتایا کہ بھٹو صاحب نے ایسا کرنے کا حکم دیا ہے تو کسی نے کہا کہ محمد عباس نے اسے بتایا کہ یہ بھٹو صاحب کا حکم تھا..ایف ایس ایف کے ایک اہلکار نے تو عدالت میں باقاعدہ طور پر تسلیم کیا کہ ایسا کوئی واقعہ ہوا ہی نہیں اور ہم سے زبردستی یہ گواہی دلوائی جا رہی ہے. .اس اہلکار کو اس کے بعد دوبارہ عدالت کے روبرو کبھی پیش نہیں کیا گیا
اس مقدمہ کی ساری کہانی مسعود محمود کی گواہی پر قائم تھی جو کہ مسلسل پولیس کی حراست میں تھا اس کے علاوہ قانون کی اصطلاح میں وہ سلطانی گواہ تھا اور سلطانی گواہ کی گواہی کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ یہ اس وقت تک قابل قبول نہیں جب تک اس کی تائید کوئی اور گواہ نہ کر دے اس جیپ جس کے بارے میں عدالت کو بتایا گیا کہ اس پر سوار ہو کر ایس ایف اے کے اہلکاروں نے قصوری پر فائرنگ کی گئی تھی کی لاگ بک بھٹو صاحب کے وکلا نے عدالت میں پیش کی جس کے مطابق وقوعے کے روز وہ جیپ لاہور میں تھی ہی نہیں اس کے باوجود 18 مارچ کو بھٹو صاحب کو تمام پانچ ججوں نے متفقہ طور پر پھانسی سنا دی
اس سزا کے خلاف بھٹو صاحب کے وکلا نے سپریم کورٹ میں اپیل دائر کی… مئی کو سپریم کورٹ کے 9 رکنی بنچ کے سامنے اس کی سنوائی شروع ہوئی
ان 9 ججوں میں سے 5 جج بھٹو صاحب کی سزائے موت کے خلاف تھے ان پانچ ججوں میں جسٹس دراب پٹیل ، جسٹس محمد حلیم،جسٹس صفدر شاہ، جسٹس وحید الدین اور جسٹس قیصر خان شامل تھے چیف جسٹس انوار الحق ضیا الحق کے قریبی دوستوں میں تھے اور دونوں کا پیدائشی گاوں ایک ہی تھا کیونکہ یکم جون کو جسٹس قیصر خان نے ریٹائر ہو جانا تھا اس لیے انوار الحق نے حالات کو بھانپتے ہوئے ضیا الحق کی مشاورت سے مقدمہ کی سماعت کو جون کے آخر تک موخر کردیا ..جسٹس قیصر کی جگہ نئے جج جسٹس نسیم حسن شاہ آئے جو کہ ایک ایڈہاک جج تھے اس کے علاوہ جسٹس وحید خان کو دل کا دورہ پڑا تو اس کو بہانا بنا کر انوار الحق نے اسے بھی پینل میں بیٹھنے سے روک دیا تھا کیونکہ ایک من گھڑت رپورٹ عدالت میں پیش کی گئی جس کے مطابق جسٹس وحید الدین کی دل کے دورے کے باعث دماغی صحت درست نہیں. .جون کے آخر میں کارروائی دوبارہ شروع ہوئی 18 دسمبر کو بھٹو صاحب سپریم کورٹ کے روبرو پیش ہوئے اس دن سپریم کورٹ کا احاطہ عوام سے کھچا کھچ بھرا ہوا تھا 23 دسمبر کو عدالت نے اپنی کاروائی مکمل کر لی اور 6 فروری 1979 کو تفصیلی فیصلہ جاری کیا جس میں 4 ججز بھٹو صاحب کی پھانسی کے حق میں تھے جبکہ تین نے بھٹو صاحب کو تمام الزامات سے بری الذمہ قرار دیا

29 فروری کو بھٹو صاحب کے وکلا نے Review پٹیشن دائر کی بھٹو صاحب کے وکلا کو صرف سات دن تیاری کا وقت دیا گیا. .بعض وکلا کے خیال میں بھٹو صاحب کے وکیل یحیی بختیار سے یہاں ایک بہت بڑی غلطی ہوئی کہ بجائے وہ ریویو پٹیشن میں صرف سزائے موت چیلنج کرکے عمر قید میں لے آتے انہوں نے ساتھ میں اور بہت سی چیزیں شامل کر دیں جس سے سزائے موت کو عمر قید میں تبدیل کرنے کی Plea نیچے دب گئی. . 24 مارچ کو بھٹو صاحب کی Review پٹیش کا فیصلہ سنایا گیا جس میں بھی بھٹو صاحب کی سزائے موت کو برقرار رکھا گیا اور بالآخر 4 اپریل کو انہیں سزائے موت دے دی گئی
اب پوری دنیا پر یہ بات واضح ہو چکی ہے بھٹو صاحب اس قتل کے مقدمہ میں بے گناہ تھے
وجہ عناد. ..
جس وجہ عناد کی بنیاد پر یہ مقدمہ قائم ہوا وہ وجہ عناد تھی کہ احمد رضا قصوری بھٹو صاحب کے خلاف تقاریر کیا کرتے تھے اس لئے بھٹو صاحب نے اسے مروا دیا …اس وقت کے تمام لوگ بتاتے ہیں کہ احمد رضا قصوری سے کہیں زیادہ سخت زبان بھٹو صاحب کے خلاف اوکاڑہ سے منتخب ہونے والے راو خورشید استعمال کیا کرتے تھے. .اگر مخالف تقاریر کرنے کی بنیاد پر قتل کروانا تھا تو بھٹو صاحب پہلے اسے قتل کرواتے لیکن بھٹو صاحب نے تو اسے اتنی مخالفت کے باوجود 1977 میں دوبارہ ٹکٹ دے دیا تھا
گواہان. .
مسعود محمود کے علاوہ ارشد، رانا آفتاب، سعید احمد اور غلام حسین میں سے کسی نے بھی بھٹو صاحب کو قصوری کے قتل کا حکم دیتے نہیں سنا تھا اور ان میں سے کسی ایک نے بھی دوسرے گواہ کی تائید نہیں کی بلکہ ہر ایک نے الگ الگ کہانی سنائی. .ایک گواہ نے زبردستی گواہی دلوانے کا اعتراف کیا تو اسے دوبارہ پھر کبھی عدالت میں پیش نہ کیا گیا لیکن افسوس اس بات کا ہے عدالت نے کبھی اسے پیش کرنے کا اسرار بھی نہ کیا
مسعود محمود واحد گواہ تھا جو کہ کلیم کرتا تھا کہ بھٹو صاحب نے اسے قصوری کو قتل کرنے کے لیے کہا لیکن وہ اپنے اس کلیم کے سپورٹ میں ایک شہادت بھی پیش نہ کر سکا اس لیے اکیلے سلطانی گواہ کی شہادت پر کبھی سزائے موت نہیں دی جا سکتی. اس کے علاوہ عدالت میں جائے وقوعہ پر استعمال ہونے والی جیپ کی سرکاری لاگ بک وقوعہ کی حقیقت پر سوال اٹھانے کے لیے کافی تھی
سیشن کورٹ کا حق
ہر پاکستانی شہری جس پر فوجداری مقدمات قائم ہوں پہلے ان پر لوئر کورٹ میں مقدمہ چلایا جاتا ہے اس کے بعد اپیل میں مقدمہ ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ میں لیکن بھٹو صاحب کے کیس میں مقدمہ براہ راست ہائی کورٹ میں چلایا گیا جس سے بھٹو صاحب ہائی کورٹ میں اپیل کے حق سے محروم ہو گئے
کرمنل پروسیجر کوڈ CRPC کی دفعہ 342 کے تحت ٹرائل کے آخر میں ملزم سے پورے مقدمہ میں استغاثہ کی طرف سے پیش کی گئی شہادتوں سے متعلق پوچھا جاتا ہے بھٹو صاحب نے اس سٹیج پر ادراک کر لیا تھا کہ ان کو ایک کنگرو ٹرائیل کے ذریعے پھانسی دینے کا تہیہ کر لیا گیا ہے اس لیے بھٹو صاحب نے 342 کے بیان ریکارڈ کرانے سے انکار کر دیا تھا اور کہا تھا کہ آپ نے جو کچھ لکھنا ہے لکھ لیں اس لیے بہرحال ٹرائیل میں یہ بھی ایک بڑا قانونی سقم تھا
پورے ٹرائیل کے ریکارڈ میں ایک جگہ بھی استغاثہ کے کیس پر صفائی کی طرف سے ایک objection یا اعتراض ریکارڈ پر نہیں لایا گیا جو کہ ان کی بھٹو صاحب سے مخاصمت کا منہ بولتا ثبوت ہے
مولوی مشتاق کی غیر جانبداری پربھٹو صاحب نے بار بار سوال اٹھائے اس کے باوجود اسے مقدمہ کی سماعت سے نہیں ہٹایا گیا
نسیم حسن شاہ جیسے ایڈہاک جج کو اتنے بڑے مقدمہ میں بٹھانا بھی اس کیس کے فیصلے پر اثرانداز ہونے کی نیت سے کیا گیا تھا
قصہ مختصر ضیا الحق نے مارشل لا لگانے سے پہلے یہ ذہن بنایا ہوا تھا کہ مارشل لا لگانے کے بعد کس طرح بھٹو صاحب کو لٹکانا ہے اسی غرض سے یہ سارا سٹیج سیٹ کیا گیا
دنیا کے تمام بڑے بڑے قانون دان اس بات سے اتفاق کرتے ہیں کہ بھٹو صاحب کی پھانسی دراصل ایک جوڈیشل مرڈر یا عدالتی قتل ہے
سابق امریکی اٹارنی جنرل رمزے کلارک نے بھٹو صاحب کے ٹرائیل کے بارے میں لکھا تھا
This was a mock trial in a Kangaroo court
چوہدری اعتزاز احسن بھٹو صاحب کے مقدمہ کے بارے میں اکثر ایک شعر پڑھتے ہیں
شہادتوں کے تقابل سے کچھ ملا تو نہ تھا
کیا تھا جبر عدالتوں نے یہ فیصلہ تو نہ تھا

تحریر:محمد ایوب جپہ ایڈووکیٹ

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں