شہباز شریف کی کھانیاں، اور ظفر حجازی کی پھرتیاں

نیوز ویوز (اسلام آباد): چین کی سیکیوریٹیز ریگولیٹری کمیشن یا آسان الفاظ میں چینی سیکیوریٹی اور ایکسچینج کمیشن نے ایک مقامی کمپنی کے اکاوئنٹ میں سترہ ملین ڈالر یعنی پونے دو ارب روپے کی مشکوک ٹرانزیکشن پکڑی. کمپنی کا دعوی تها کہ یہ رقم ملتان میٹرو سے کمائی رقم ہے۔ کمپنی نے ثبوت کے طور پر وزیر اعلی پنجاب اور سینیٹر مشاہد کے تعریفی سرٹیفکیٹ بهی دئیے جن پر وزارت خارجہ کی مہریں بهی تهیں جبکہ وزیراعلی پنجاب اور دوسرے لوگوں نے لیٹرز سے اظہار لاتعلقی کیا۔ چینی سیکیوریٹی اور ایکسچینج کمیشن نے پاکستانی سیکیوریٹی اور ایکسچینج کمیشن کو خط لکه کر تفصیلات اور تحقیقات کا کہا۔ اس وقت کے ڈائریکٹر اور آج کل کے معطل ظفر حجازی نے پہلے کیس کو دبایے رکها اور پهر نیب کی بجائے وزارت خزانہ کو بهیج دیا۔ چیف سیکرٹری پنجاب نے بهی ایکشن لینے کے بجائے 8 ماہ کیس دبائے رکها۔

ذرائع کا دعوی ہے کہ کل گهپلہ پانچ ارب روپے کا ہے سراغ صرف پونے دو ارب کا لگا ہے۔ چینی گورنمنٹ پر پریشر ڈالا جا ریا ہے کہ ہمیں یعنی شریف خاندان کو نکالا جائے ورنہ سی پیک خطرے میں پڑ جائے گا۔
اب شہبازشریف نے سی ایم آئی ٹی سے تحقیق اور تهرڈ پارٹی آڈیٹر سے کلین چٹ لینے کی تیاری کر لی ہے۔حیرت کی بات ہے وزیر اعلی پر لگنے والے الزامات کی تحقیق ان کا ذیلی ادارہ کرے گا۔ تو پھر نیب اور ایف آئی اے کس مرض کی دوا ہیں.وہ اسی طرح کے گهپلوں کی تحقیقات لےلیے سالانہ اربوں روپے کا.بجٹ لیتے ہیں۔حالانکہ انہوان نے کوئی کلین چٹ نہیں دی صرف ان لیٹرز کو جعلی قرار دیا ہے اور کرپشن کی اطلاع سفارت خانے کو کرنے کا کہا ہے

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں