’شہباز شریف برطانوی اخبار کیخلاف عدالت جائیں اور مجھ پر بھی دعویٰ کریں‘

اسلام آباد: وزیراعظم عمران خان کے معاون خصوصی برائے احتساب شہزاد اکبر نے مسلم لیگ (ن) کے صدر شہباز شریف کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ اگر شہباز شریف برطانوی اخبار کے خلاف عدالت نہ گئے تو میں خود عدالت جاؤں گا۔

اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے شہزاد اکبر نے کہا کہ مسلم لیگ ن کی قیادت نے برطانوی اخبار کی اسٹوری، وزیراعظم عمران خان اور مجھ پر بھی دعویٰ دائر کرنے کا وعدہ کیا تھا، کہاں گیا وہ وعدہ؟

انہوں نے کہا کہ ایرا کے فنڈ میں چوری نہیں ڈکیتی کی گئی ہے، شہباز شریف کہتے کہ زلزلہ 2005 میں آیا اور وہ جلاوطن تھے،کیسے چوری کرسکتے ہیں۔

شہزاد اکبر کا کہنا تھا کہ شہباز شریف نے دعویٰ کیا تھا کہ وہ مقدمہ کریں گے، کہاں گیا وہ دعویٰ؟ انہوں نے اخبار کو شکایت کی ہے، عدالت میں کوئی مقدمہ نہیں کیا۔

ان کا کہنا تھا کہ شہباز شریف نے اخبار کو شکایت کی کہ رپورٹنگ عوامی مفاد میں نہیں تھی حالانکہ انہوں نے 4 صفحات پر مشتمل شکایت میں خبر کی تردید بھی نہیں کی۔

وزیراعظم کے معاون خصوصی نے کہا کہ شہباز شریف اگر سچے ہیں تو اخبار کے خلاف عدالت میں جائیں کیونکہ جس صحافی نے شہباز شریف کے خلاف خبر دی  وہ اپنی خبر پر قائم ہے۔

انہوں نے کہا کہ میں تو انتظار کر رہا ہوں کہ شہباز شریف مجھ پر دعویٰ کریں لیکن مجھے یقین ہے کہ وہ میرے خلاف عدالت میں نہیں جائیں گے۔

شہزاد اکبر نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے مزید کہا کہ میں اپنا بیگ تیار کرکے بیٹھا ہوں، میرے خلاف برطانیہ میں دعویٰ دائر کریں، اگر میرے خلاف برطانوی عدالت میں گئے تو وہاں سارے ثبوت میں پیش کر دوں گا۔

وزیراعظم کے معاون خصوصی نے شہباز شریف کو چیلنج بھی کیا کہ اگر آپ عدالت میں نہیں جائيں گے تو میں خود عدالت میں جاؤں گا اور بتاؤں گا کہ اخـبار میں جو آيا وہ صرف 5 فیصد ہے جب کہ 95 فیصد باقی ہے۔

یاد رہے کہ گزشتہ دنوں برطانوی اخبار ڈیلی میل نے ایک رپورٹ شائع کی تھی جس میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ سابق وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف کے خاندان نے زلزلہ متاثرین کو ملنے والی برطانوی امداد میں چوری کی۔

رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ پاکستان کو دی گئی امداد میں شہباز دور میں برطانوی امدادی ادارے نے لگ بھگ 50 کروڑ پاؤنڈ پنجاب کو دیئے۔

تاہم برطانوی امدادی ادارے ڈپارٹمنٹ آف انٹرنیشنل ڈیویلپمنٹ نے اس رپورٹ کی تردید کرتے ہوئے وضاحتی بیان جاری کیا جس میں کہا گیا تھاکہ ڈیلی میل نے اپنی اسٹوری کو سچ ثابت کرنے کے لیے کم ثبوت پیش کیے۔

ڈی ایف آئی ڈی کے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ 2005 کے زلزلے کے بعد برطانیہ کی جانب سے حکومت پنجاب کے ارتھ کوئک ریلیف اینڈ ری کنسٹرکشن اتھارٹی (ایرا) کو اسکولوں کی تعمیر کے لیے امداد دی گئی جو تعمیر ہوئے اور ان کا آڈٹ بھی کیا گیا۔

بعد ازاں مسلم لیگ (ن) کے صدر شہباز شریف نے بھی برطانوی اخبار، وزیراعظم عمران خان اور ان کے معاون خصوصی برائے احتساب شہزاد اکبر کے خلاف قانونی چارہ جوئی کا اعلان کیا تھا۔ 

26 جولائی کو شہباز شریف نے لندن میں زلزلہ زدگان کی امداد چوری کرنے کا الزام لگانے والے برطانوی اخبار ’ڈیلی میل‘کے خلاف ہتک عزت کا دعویٰ دائر کیا۔

قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف نے برطانوی اخبار ڈیلی میل کے خلاف باضابطہ کارروائی کے لیے برطانیہ کی معروف لاء فرم کارٹر رک کی خدمات حاصل کی ہیں جو برطانیہ میں ان کا کیس لڑے گی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں