شام کے خلاف سلامتی کونسل میں پیش قراردا روس نے ویٹو کر دی


روس نے اقوام متحدہ کی سکیورٹی کونسل میں پیش کی جانے والی اس قرارداد کے مسودے کو ویٹو کر دیا ہے جس میں گذشتہ ہفتے کے مبینہ کیمیائی حملے کی مذمت کی گئی تھی اور شامی حکومت سے مطالبہ کیا گیا تھا کہ وہ تفتیش کاروں کے ساتھ تعاون کرے۔
یہ قرارداد امریکہ، برطانیہ اور فرانس کی جانب سے پیش کی گئی تھی جنھوں نے روس کے ویٹو پر برہمی کا اظہار کیاہے.
یہ آٹھواں موقع ہے کہ سکیورٹی کونسل میں روس نے اپنے اتحادی شام کو بچایا ہے۔
سکیورٹی کونسل میں پیش کیے گئے قرارداد کے مسودے میں انسداد کیمیائی ہتھاروں کی تنظیم کی جانب سےشام میں تحقیقات کی حمایت کی گئی تھی۔
اس قرارداد کے تحت شامی حکومت پر لازم ہوتا کہ وہ فوجی معلومات فراہم کرتی جس میں جنگی طیاروں کی اڑان کا ٹائم ٹیبل اور فضائی اڈے تک رسائی شامل تھی۔
سکیورٹی کونسل کے پانچ مستقل اراکین ممالک میں شامل چین کے علاوہ ایتھوپیا اور قزاقستان نے ووٹنگ میں حصہ نہیں لیا۔ سکیورٹی

کونسل میں 10 ممالک کے قرارداد کے حق میں جبکہ روس اور بولیویا نے قرار کے خلاف ووٹ دیا۔
روس کی جانب سے مسودے کو ویٹو کیے جانے کے بعد اقوام متحدہ میں امریکی سفارتکار نکی ہیلی نے روس کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ روس اپنے آپ کو عالمی برادری میں تنہا کر رہا ہے۔’
دوسری جانب واشنگٹن میں نیٹو کے سیکرٹری جنرل کے ہمراہ پریس میں کہا کہ یہ بہت اچھا ہوا کہ چین نے ووٹنگ میں حصہ نہیں لیا۔
رواں ہفتے ہی جی سیون گروپ کے رکن ممالک شام کے تنازعے کے حوالے سے روس پر نئی پابندیاں لگانے پر اتفاق کرنے میں ناکام رہے تھے۔
منگل کو اٹلی میں ہونے والے اجلاس میں رکن ممالک اس بات پر متفق دکھائی دیے کہ شام کے صدر بشار الاسد کے برسرِاقتدار رہنے کی صورت میں شام کے تنازعے کا حل ممکن نہیں تاہم برطانیہ کی جانب سے روس اور شام کے سینیئر فوجی اہلکاروں کے خلاف پابندیاں عائد کرنے کی تجویز پر اتفاق نہیں ہو سکا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں