شالیمارایکسپریس کو پبلک پارٹنرشب کے تحت نجی کمپنی کے سپرد کر دیا گیا

شالیمارایکسپریس کو پبلک پارٹنرشب کے تحت نجی کمپنی کے سپرد کیئے جانے کےبعد آج کراچی کینٹ اسٹیشن سے اپنے پہلے سفر پر لاہور روانہ ہو گئی ہے اس سلسلے میں کراچی کینٹ اسٹیشن پر سادہ اورایک پر وقار تقریب کا انعقاد کیا گیا جہاں ڈی ایس ریلوے نثار میمن نے نجی کمپنی کے مالکان کے ہمراہ فیتہ کاٹ اور شالیمارایکسپرییس کو روانہ کیا اس موقع پر ڈی ایس ریلوے نثار مین نے میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئےبتایا کہ شالیمار ایکسپریس 17 کوچز پر مشتمل ہے جس میں ایک اے سی پارلر ، 2 اے سی لوئر، 11 اکانمی کوچز ، ایک پاوروین ، ایک لگیج وین اورایک بریک وین پر مشتمل ہے انھوں نےبتایا کہ نجی کمپنی 1ارب 80 کروڑ روپے سالانہ بمہ 10 فئصد ود ہولڈنگ ایڈوانس جمع کرائے گی جو موجودہ بولی کی رقم سابقہ رقم سے 1 ارب 13 کروڑ 70 فیصد زائد ہے انھوں نے بتایا کہ شالیمار ایکسپریس کی نئی انتظامیہ ہفتہ وار 3کروڑ 80 لاکھ اور یومیہ 49 لاکھ 31 ہزار849 روپے جمع کرائے گی، ڈی ایس ریلوے کا کہنا ہے کہ نئی انتظامیہ کے ساتھ کیا جانے والا معاہدے کا دورانہ 2 سال ہوگا جو کہ باہمی رضا مندی اور اچھی کار کردگی کی بنا پرمزید ایک سال تک بڑھا جا سکتاہےانھوں نے بتایا کہ اس قبل شالیمار ایکسپریس سالانہ 74 کروڑ روپےمنافع دےرہی تھی اور سابقہ انتظامیہ کے ساتھ معاہدے کادورانیہ مکمل ہونے کے بعد اسےحکومتی تحویل میں لے لیا گیا تھاشالیمارایکسپریس نے مسافروں کے لیے وائے فائے،ایل ای ڈی ، ساؤنڈ سسٹم اورنئی نشستوں سمیت جدید سہولتیں فراہم کی گئی ہیں اورشالیمار ایکسپریس کراچی سے لاہور18 گھنٹوں میں اپنا سفر مکمل کریگی

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں