سیلفی مرگی کے دوروں کا باعث بن سکتی ہے

نیوز ویوز(اوٹاوا): موبائل صارفین کے اسمارٹ فون کی طرف منتقل ہونے کے بعد لوگ سیلفی کے بخارمیں مبتلا ہوگئے ہیں، چاہے وہ سیلفی کسی شخصیت کے ساتھ ہو یا پھر اکیلے میں، جس کے پاس اسمارٹ فون موجود ہوتا ہے وہ سیلفی لینے کی لت میں مبتلا نظر آئے گا۔

لیکن ماہرین نے اس حوالے سے ایک تشویشناک انکشاف کیا ہے۔

ماہرین نے بتایا کہ سیلفی لینے کی وجہ سے کچھ لوگوں کو مرگی کے دورے بھی پڑ سکتے ہیں۔

کینیڈا میں اس حوالے سے نوجوان لڑکی کو پڑنے والے مرگی کے دوروں کا جائزہ لیا گیا جس کے بعد ماہرین نے کہا کہ لڑکی کے دوردں کی وجہ یہ ہو سکتی ہے کہ وہ روشنی والی تصویروں کو دیکھ کر کچھ محسوس کرتی ہو گی اس لیے اس کو دورے پڑتے ہوں گے۔

لیکن جدید تحقیق سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ روشنی کو دیکھ کر جن لوگوں کو مرگی کے دورے پڑتے ہیں تو ایسے دوروں کو سیلفی کے دورے کہتے ہیں کیونکہ موبائل فون کی ریڈی ایشن انسان کے دماغ پر اثر کرتی ہیں جو مرگی کے دوروں کا سبب بن سکتی ہیں۔

ماضی میں بھی ماہرین موبائل سیلفی کے چہرے کی جلد پر پڑنے والے اثرات سے آگاہ کرچکے ہیں۔ ان کا کہنا ہےکہ سیلفی کی وجہ سے چہرے پر جھریاں بھی پڑ سکتی ہیں کیونکہ فون کی ریڈی ایشن منہ پر پڑتی ہے جس سے جلد کو نقصان پہنچتا ہے۔

ماہرین کا مزید کہنا ہےکہ اس طرح کے دورے روشنی کی وجہ سے پڑتے ہیں اور یہ کافی انوکھے قسم کے دورے ہیں جو مشکل سے 3 فیصد لوگوں کو پڑتے ہی۔

جن لوگوں کو اس طرح کے دورے پڑتے ہیں ان کے لیے قدرتی یا مصنوعی لائٹ کوئی معنی نہیں رکھتی انہیں ہر قسم کی روشنی میں دورے پڑسکتے ہیں۔

یہ بیماری زیادہ تر بچوں اور نوجوانوں میں پائی جاتی ہے اور جیسے جیسے بچے بڑے ہوتے ہیں اس کے اثرات کم ہونا شروع ہوجاتے ہیں۔

کیٹاگری میں : صحت

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں