سوشل میڈیا اور روایات واقدار کی ترویج

سوشل میڈیا اس وقت رابطے کا سب سے موثر ذریعہ سمجھا جاتا ہے۔ سوشل میڈیا کے ذریعے دنیا کے ایک چھوٹے سے کونے سے اٹھنے والی آوازیں پوری دنیا کونے مونے میں پھیل جاتی ہے سوشل میڈیا سے پہلے کسی بھی میدیم میں آپ کو ایسی مثال نہیں ملتی۔ اکثردیکھنے میں آیا ہے کہ سو شل میڈیا کو مثبت کاموں کے لیے صحیح طرح استعمال نہیں کیا جاتا .اس حوالے سے میں نے آج سے ایک نئے مشن کا آغاز کیا اور اپنے دوستوں اور قارئین کے ساتھ اپنے خیالات کو شیئر کرنے کا ایک سلسلہ شروع کردیا ہے ہم سوشل میڈیا اور اس سمیت تمام فورمز کو اچھی روایات کے لیے استعمال کریں تاکہ ہمارے معاشرے میں اس طاقتور ترین میڈیا کے ذریعے اپنی نوجوان نسل اور دوستوں کو موٹیویشن دی جاسکے۔ اس سلسلے میں ایک آئیڈیا میں نے اپنے سوشل میڈیا اکاونٹس کے ذریعے دوستوں سے شیئر کیا ، اس آئیڈیا کو نہ صرف پسند کیا گیا بلکہ لائکس، میلز اور ٹیلی فون کالوں کا ایک سلسلہ شروع ہوگیا جس میں نہ صرف میری پذیرائی کی گئی بلکہ اس مشن کو بھرپور طریقے سے جاری رکھنے کے لیے بہت سے آئیڈیاز بھی شیئر ہوئے۔ قارئین ۔یہ آئیڈیا کوئی نیا نہیں ہے،میرے سمیت بہت سے اور دوست بھی اس کو شئیر کر رہے ہیں ۔میرا کریڈٹ صرف اتنا ہے کہ میں نے اسکو شائد اچھے طریقے سے ری شئیر کیا ہے۔ مجھے یاد ہے کہ جب ہم بچپن میں اپنے بڑے بوڑھوں کے ساتھ کسی کی عیادت کے لیے جایا کرتے تھے تو اس وقت ہمارے بڑے بوڑھے فروٹ یا پھول لے کر جانے کی بجائے ان کے لیے ایک لفافہ لے جاتے تھے یا ڈائریکٹ پیسے دے دیا کرتے تھے ۔اس حوالے سے ایک دفعہ میں نے اپنی دادی کو کہا کہ آپ فروٹ کیوں نہیں لے کر جاتیں تو انہوں نے کہا بیٹا بیمار آدمی اور اس کے گھر والوں کو زیادہ ضرورت پیسوں کی ہوتی ہے اس سے چاہے وہ فروٹ لے لیں یا پھر دوائی لیکن اپنی مرضی کا استعمال کرسکتے ہیں۔جبکہ اب کوئی غریب ہویا امیر ہر کوئی شادی کی تقریب میں شرکت کے وقت پیسوں کا ایک لفافہ ضرور دیتے ہیں مگر جب کوئی ہسپتال میں زندگی اور موت سے لڑ رہا ہوتا ہے تو اسکی تیمارداری کے وقت ہم کوئی لفافہ نہیں دیتے حالانکہ اس وقت مریض کے گھر والوں کو پیسوں کی سب سے زیادہ ضرورت ہوتی ہے۔کیا ہم سب مل کر یہ نیا رواج شروع کریں؟ میں نے اپنے فیس بک پیج اور وٹس ایپ پر اس آئیڈیے کو شئیر کیا تو مجھے یہ جان کر خوشی ہوئی کہ سیاست اور گھٹن زدہ اس ماحول میں بھی لوگوں کی اکثریت سماجی کاموں اور اس سے ملتے جلتے معاملات کو نہ صرف پسند کرتی ہے بلکہ اسے آگے بھی بڑہاتی ہے۔فیس بک فرینڈ ذوالفقار خان نے کہا کہ ہم یہ تجویز کچھ عرصہ پہلے پیش کرچکے ہیں ہماری تو کسی نے نہیں سنی اللہ کرے آپ کی کوئی سن لے ہم سب کو عملی طور پر سامنے آنا ہوگا ۔انہوں نے اس تجویز کو بڑہاتے ہوئے کہا کہ کسی ناگہانی صورت میں اہل محلہ متاثرہ خاندان سے صرف افسوس نہ کریں ، ان کے نقصان کو مشترکہ طورپر پوراکرنے کی کوشش ہونی چاہیے۔آپ جیسی شخصیات کی طرف سے ایسی باتیں سامنے آئیں گی تو اس کا معاشرے پر بہت زیادہ مثبت اثر ہوگا ۔امریکہ سے معروف صحافی کریم اللہ گوندل نے کہا ہمارے علاقے میں بیمار پرسی پر لفافہ دیا جاتا ہے میں تو اس سے بڑھ کرکہوں گا کہ اموات پر بھی لفافہ دینا چاہیے ۔یونیورسٹی آف مینیجمنٹ اینڈ ٹیکنالوجی کے پروفیسر طیب فاروق بھٹی نے بھی اس تجویز کو سراہتے ہوئے کہا ہے کہ آپ نے بجا فرمایا ہے۔نگاہ چوہدری نے کہا کہ یہ رسم کئی علاقوں میں رائج ہے بیماری میں بھی او رموت میں بھی مگر کم کم ہے اسے عام کرنے کی ضرورت ہے۔عمان عزیز نے کہا کہ بیمار کو جو پیسے دیئے جاتے ہیں اس کو پچھ کہتے ہیں ، شادی کے وقت پیسے دینے کی بجائے اگر کچھ پہلے بھیج دیں تو زیادہ بہتر ہواور فوتگی پہ دیہات میں عام طور پر انتظام برادری والے کرتے ہیں او رمہمانوں کے لئے کھانے کا انتظام بھی دوسرے لوگ کرتے ہیں اس کو ہمارے علاقے میں کوڑا وٹہ کہتے ہیں۔ محمد شفیق کاکہنا ہے کہ بہت اچھی سوچ اور تجویز ہے لیکن صرف مستحقین کی حد تک ، دکھاوے کے لیے سبھی کو نہیں ، ہمارے ہاں دکھاوے کے کاموں کا بھی زیادہ رواج ہے، باقی آپ سے مکمل اتفاق ہے۔ زاہد عابد نے کہا کہ محسن بھائی یہ جنوبی پنجاب میں رواج ہے اکثر علاقے ایسے ہیں جہاں مریض کے تکئے کے نیچے تیماردار چپکے سے واپس جاتے ہوئے پیسے رکھ دیتا ہے۔ہانگ کانگ میں پاکستان کے پریس اتاشی علی نواز ملک نے کہا کہ ہم آپ سے اتفاق کرتے ہیں اور اس کو شروع کریں گے۔آئی جی ریلوے منیر چشتی اور آئی جی جیلخانہ جات میاں فاروق نزیر نے کہا کہ بہت اچھا آئیڈیا ہے۔پی ٹی وی کے فہیم رانا نے کہا کہ لوگوں کو ہسپتال اور بیماری میں پیسوں کی زیادہ ضرورت ہوتی ہے۔ دبنگ افسر میاں اعجاز اور ریٹائرڈ بیوروکریٹ سید تجمل رضوی نے نہ صرف اتفاق کیا بلکہ کہا کہ دیہاتوں میں یہ رواج ہوا کرتا تھا۔سٹی فورٹی ٹو کے ایڈیٹر اور شفیق دوست نوید چودہری سمیت صحافیوں کی بڑی تعداد نے بھی اس کام کو شروع کرنے کا عزم کیا.

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں