سعودی وزیر دفاع کا خط ہر پاکستانی کے لئے

اس خط سے پاکستانی قوم کو بے خبر رکھا گیا
23/04/2015 کو سعودی وزیر دفاع محمد بن سلمان آل سعود نے پاکستان کے بارے میں سعودی فرمانروا شاہ سلمان کو یہ خط لکھا ہے۔ سرکاری دستاویز کے طور پر یہ خط آج بھی عرب ذرائع ابلاغ کی تمام معتبر اور اہم سائٹوں پر موجود ہے۔ محقیقین خود اس لیٹر کو عرب سائٹوں پر دیکھ سکتے ہیں۔
اس سے اندازہ لگالیں کہ ہمارے جنرل [ر] راحیل شریف صاحب کو اور پاکستان کو عربوں کے نزدیک کتنا عظیم مقام و مرتبہ حاصل ہے۔
۔
۔۔خط کی عبارت۔۔
“وخذلان باكستان لنا وتفاخرها علينا بشعارات الديمقراطية الزائفة وليعلم المتخاذلون الذين يتفاخرون بأعلى الرتب العسكرية بينما لا يستطيعون حل مشكلة صغيرة في بيتهم الداخلي أنه لولا دعمنا لهم بالمال والإعلام والمعلومات لم يكونوا ليطيحوا بخصومهم فيصلوا للسلطة وهم الذين كانوا يتسولوننا وما زالوا يطالبوننا بأن نتصدق عليهم مما أنعم الله به علينا ثم ينكرون جميلنا فيتشدقون بأن الحل السلمي في اليمن هو أفضل الخيارات ويتناسون أن عاصفة حزمنا في اليمن هي في الحقيقة دفاع عن العروبة وفخر لكل عربى شريف وهي من أجل إقرار السلام وقمع الفئة الباغية. ………………………………..
أننا لن نحتاج لمساعدة الذين لو نطرد مواطنيهم العمال الذين يعملون لدينا في المملكة سيرى الجميع كيف يتوسلون لنا ويعوون كما تعوي الكلاب”

ترجمه
پاکستان ہمارے لئے دھوکہ باز ہے اور پاکستانی حکمران اپنی نام نہاد جمہوریت کے دعویدار بن کر ہم پر فخر کرتے ہیں۔ ان دھوکے بازوں کو جان لینا چاہئیے کہ وه جن اپنے اعلی فوجی عہدوں پرناز کرتے ہیں انکی اصل حالت تو یہ ہے کہ وہ اتنے بے بس ہیں کہ اپنی چھوٹی سی اندرونی مشکل بھی تنہا حل کرنے کی استطاعت نہیں رکھتے اور اگر ہم مالی طور پر , میڈیااور انفارمیشن کے میدانوں میں انکی مدد نہ کرتے تو وه کبھی بھی اپنے مخالفین کو ہٹا کر آج حکمران نہ ہوتے اور کل تک تو وه ہم سے بھیک اور خیرات مانگا کرتے تھے۔ اور اب بھی ہمارے مال ودولت میں سے بھیک اور خیرات مانگ رہے ہیں
یہ احسان فراموش ہم سے کہتے ہیں کہ یمن کے مسائل کے حل كا بہترین راستہ پر امن راہ حل تلاش کرنے مں ہے اور یہ بات بھول جاتے ہیں کہ یمن کے خلاف یہ”فیصلہ کن طوفانی حملہ” حقیقت میں “عروبة” یعنی عرب ازم کا دفاع ہے .
(اور تم عربوں کے نوکر ہو ) اور ہر با شرف عربی کے لیے باعث فخر ہے اور یہ حملہ امن کے قیام اور باغی گروہ کو کچلنے کے لیے ہے.
اے خادم حرمین شریفین! ہمیں ان نمک حرام لوگوں کی مدد کی ہرگز ضرورت نہیں کہ جن کے ہمارے ملک میں مزدور ی کرنے والے شہریوں کو اگر ہم ملک بدر کر دیں تو پھر دیکھیں کہ وہ کس طرح ہماری منت وسماجت کرتے ہیں اور کیسےوہ کتوں کی طرح بھونکتے ہیں
ہم اس خط پر کوئی تبصرہ نہیں کرتے ، یہ خط عرب سائٹوں پر موجود ہے، اس کے بعد ریاض کانفرنس میں پاکستان اور پاکستانی وزیر اعظم کے ساتھ جو کچھ ہوا وہ بھی کسی سے ڈھکا چھپا نہیں۔ ہمیں اس بات کا احساس کرنا چاہیے کہ سعودی اتحاد کی نگاہ میں پاکستان کی کیا حیثیت ہے اور جنرل [ر] شریف کی سعودی عرب کی نوکری سے عرب دنیا میں پاکستان پر کتنا منفی اثر پڑ رہاہے۔
ہماری صرف اتنی گزارش ہے کہ ہر پاکستانی دانشور کو حالات حاضرہ پر نگاہ رکھنی چاہیے اور اپنی قوم کو حقائق سے آگاہ کرنا چاہیے۔
ہمیں اس حقیقت کو تسلیم کرنا چاہیے کہ سعودی عرب اور امریکہ کی کسی سے کوئی دینی یا مسلکی جنگ نہیں ہے بلکہ ہمیں دین و مسلک کے نام پر بے وقوف بنایا جارہاہے۔
*خط آپ کے سامنے ہے اور تحقیق آپ کی ذمہ داری ہے۔*

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں