خورشید شاہ رنگ باز ہیں. خواجہ آصف

اسلام آباد: وزیر دفاع خواجہ آصف کا کہنا ہے کہ پوری پیپلز پارٹی کو بینظیر بھٹو کے قاتل کا پتہ ہے لیکن کبھی نہیں بتائیں گے۔
قومی اسمبلی میں اظہار خیال کرتے ہوئے خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ پاكستان كا آئين اور ادارے مضبوط پاكستان اور بقا كی ضمانت ہيں ہميں يہ ادارے عزيز ہيں، اپوزیشن کی جانب سے نہال ہاشمی کی جو نازیبا گفتگو کا حوالہ دیا گیا اس کا کوئی دفاع نہیں ہوسکتا ان کے بیان کی صرف مذمت ہی کی جا سکتی ہے، ہمیں اس پر شرمندگی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ وزیراعظم کوقومی سلامتی کمیٹی اجلاس ختم ہوتے ہی اس سے متعلق بتایا گیا کیوں کہ ہم اداروں کا احترام کرتے ہیں اور کرتے رہیں گے، عدلیہ کی بحالی ہماری، وکلا اور سول سوسائٹی کی جدوجہد کے باعث ہے آج عدلیہ آزاد ہے اور ہم اس کا دفاع کر رہے ہیں اس میں ہمارا بھی خون شامل ہے۔
وفاقی وزیرنے کہا کہ خورشید شاہ کی طرح باتیں کرنا ہمیں بھی آتی ہیں لیکن میں اس وقت پارلیمنٹ کا ماحول خراب کرنا نہیں چاہتا اپوزیشن لیڈر کو صرف اتنا کہوں گا کہ جب ان کی پارٹی این آراو کے ثمرات وصول کررہی تھی اس وقت ہم سڑکوں پرتھے، يہاں كھڑے ہوكر وعظ كرنے والےرنگ باز بتائيں كہ مری معاہدے ميں ایک ماہ ميں عدليہ بحالی كے وعدے سے وہ منحرف كيوں ہوئے، ہم نے عدليہ كی بحالی كے لئے وزارتيں اور اسمبلی كی ركنيت چھوڑی تھی ، جن لوگوں نے اس ايوان سے ناک رگڑ كر استعفے واپس لئے وہ پھر باہر جاكر اس ايوان كو گالياں دے رہے ہيں۔
خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ پارلیمنٹ میں آکر تو خورشید شاہ بہت شعلہ بیانی دکھاتے ہیں پہلے آپ اپنی صوبائی حکومت سے 12 مئی کی تحقیقات تو کرا دیں، آپ اپنے گھر کی جانب دیکھیں جہاں پنجاب میں آئے روز آپ کی پتنگ کٹی ہوتی ہے، آپ کی حمایت کرنے والے اور تقاریرکرنے والے جی ٹی روڈ پرکہتےتھے ( ہمیں بھی ساتھ لے چلو) ’سانوں وی لےچل نال وے بابو سوہنی گڈی والیا‘۔ انہوں نے مزید کہا کہ پیپلز پارٹی والے بے نظیر بھٹو کی قربانیوں کا ذکر تو کرتے ہیں لیکن ان کےقاتلوں کو نہیں پکڑتے، جس کی سیاست اور قربانی کی بدولت اسمبلی میں بیٹھے ہیں اس کا تو حق ادا کریں، پوری پیپلز پارٹی کو پتا ہے کہ بے نظیر کا قاتل کون ہے لیکن کبھی نہیں بتائیں گے۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ 70 سالہ تاریخ سےایک مثال دیں وزیراعظم 3 نسلوں کا احتساب دے رہا ہے ہم قانونی اور آئینی طور پر راہ فرار اختیار کر سکتے تھے لیکن نواز شریف نے نئی روایات کو قائم کیا ہے نواز شريف استثنیٰ لے سكتے تھے ليكن وہ اپنی اور اپنے بچوں كي بے گناہی ثابت كريں گے ہم نے خود كو عدليہ كے سامنے تحقيقات اوراحتساب كے لئے پيش كيا اور عدالت جب بھی بلائے گی ہمارا سر اس كے سامنے خم ہوگا۔ ان کاکہنا تھا کہ آپ 1970 کی اسٹیل مل کاحساب کرتے ہیں جنھوں نے 20 سال قبل فلیٹ خریدے ان کے پاس رسیدیں موجود نہیں ہیں، جس طرح عدالتیں اورعوام مطمئن ہوں ہم ایک ایک پائی کا حساب دینےکوتیار ہیں لیکن امپائر کی انگلی کا انتظار کرنے والا اپنی تلاشی کے وقت جیبوں پر ہاتھ کیوں رکھ لیتا ہے۔ ان کامزید کہنا تھا کہ میری ذاتی رائے میں اسمبلی کی کارروائی براہ راست دکھانے میں مضائقہ نہیں پارلیمنٹ کو اس حوالے سے اپنا چینل بھی لے آنا چاہیے پارلیمنٹ کے اندر سے لوگ ذاتی مقاصد کے لیے پارلیمنٹ کو برا بھلا کہتے ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں