جے آئی ٹی کی کاروائی قانون کی حکمرانی کا بھی امتحان ہے.بلاول بھٹو

چیئرمین پیپلزپارٹی بلاول بھٹو زرداری کا کہنا ہے کہ نواز شریف قانون کی حکمرانی اور اقدارکا درس دیتے رہے اب پاناما کیس اور جے آئی ٹی کی کارروائی قانون کی حکمرانی کا بھی امتحان ہے۔ پانچ سالوں میں نواز شریف نے رول آف لا کی بہت باتیں کی ہیں ۔ احتساب شروع تو ہوا دیکھتے ہیں تخت رائے ونڈ کا احتساب ہوتا ہے یا نہیں۔ یہ باتیں انہوںنے لاہورڈویژن کے عہدیداروں اورٹکٹ ہولڈروں کے اجلاس اور صحافیوں سے غیر رسمی گفتگو کرتے ہوئے کہیں ۔ قبل ازیں بلاول ہاﺅس میں بلاول بھٹوکی زیر صدارت ہونیوالے اجلاس میں پیپلز پارٹی پنجاب کے صدر قمر زمان کائرہ، مرکزی سیکرٹری اطلاعات چوہدری منظور احمد،سیکرٹری اطلاعات پنجاب مصطفی نواز کھوکھر،قائم مقام سیکرٹری جنرل پنجاب عثمان سلیم ملک، رائے شاہجہاں بھٹی ، لاہور ڈویژن کے صدر عزیز الرحمن چن ،جنرل سیکرٹری اسرار الحق بٹ، شیخوپورہ کے صدر جاویدڈوگرسمیت قصور اورننکانہ کے صدور شریک ہوئے ۔جبکہ پی پی پی کے سنیئر ممتاز رہنما لطیف کھوسہ ، نوید چوہدری اور علامہ یوسف اعوان بھی موجود تھے۔ بلاول بھٹو نے تمام عہدیداروں کے پاس جاکر فرداً فرداً ان سے ہاتھ ملایا اور خیریت بھی دریافت کی ۔ بلاول بھٹو کا اپنے خطاب اور میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہنا تھا کہ جن کو جے آئی ٹی میں بلایا جارہا ہے ان کا سیاست سے کوئی تعلق نہیں۔ ہم تاریخ کو دیکھتے ہیں اور تاریخ کا سبق یہ ہے کہ شریف خاندان کاکبھی احتساب نہیں ہوا۔ایک صحافی کے سوال پر کہ نواز شریف پانامہ کیس میں دوڑ، دوڑ کر ہانپ رہے ہیں کب گرائیں گے ؟پر بلاول بھٹو کا کہنا تھا کہ معاملہ یہ نہیں کہ میں کیا چاہتا ہوں معاملہ یہ ہے کہ قانون کیا چاہتا ہے؟ ہم کہتے ہیں کہ جو بھی ہو قانون کے مطابق ہونا چاہیے۔ پارٹی چھوڑ کر جانیوالے بعض سیاستدانوں کے متعلق پوچھے گئے ایک سوال پر بلاول بھٹو نے کہاکہ پارٹی چھوڑ کر جانےوالوں کی پریشانی نہیں ،جیالے میرے ساتھ ہیں، میرے لئے جیالوں کا پیار زیادہ اہم ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں