جنرل باجوہ ہی کیوں

بلال میکن/ صحافی بلاگ رائٹر

حکومتِ پاکستان نے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کو مزید تین سال کے لیے پاک فوج کا سالار مقرر کرنے کا نوٹی فکیشن جاری کردیا ہے۔
وزیر اعظم آفس کے جانب سے جاری کردی نوٹی فکیشن میں کہا گیا ہے کہ جنرل قمر جاوید باجوہ کی مدت ملازمت میں توسیع خطے کے حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے دی گئی ہے۔
وزیراعظم عمران خان نے جنرل قمر باجوہ کی مدت ملازمت میں توسیع کا فیصلہ ملک کی مشرقی سرحد کی موجودہ صورتحال کے پیش نظر کیا۔آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع کا فیصلہ علاقائی صورتحال،خصوصاًافغانستان اور مقبوضہ کشمیر کے حالات کو مد نظر رکھ کر کیا گیا۔
سابقہ وزیر اعظم نواز شریف نے انہیں29 نومبر 2016 کو پاکستان کا 16واں سپہ سالار مقرر کیا تھا اور ان کی مدت ملازمت 29 نومبر 2019 کو ختم ہونا تھی، تاہم اب وہ مزید تین سال آرمی چیف کے عہدے پر رہیں گے۔__ جنرل قمر باجوہ 12 نومبر 1960 کو کراچی میں گکھڑ منڈی گوجرانوالہ سے تعلق رکھنے والے پنجابی خاندان میں پیدا ہوئے ۔ان کے والد محمد اقبال باجوہ پاک فوج میں لیفٹیننٹ کرنل کے کے عہدے پر فائز تھے ۔ جنرل باجوہ نے 1980 میں 62 ویں پی ایم اے لانگ کورس میں کمیشن حاصل کیا۔
جنرل قمر باجوہ آرمی کی سب سے بڑی 10 کور کو کمانڈ کرچکے ہیں جو کنٹرول لائن کے علاقے کی ذمہ داری سنبھالتی ہے۔قمر جاوید باجوہ کو کشمیر اور شمالی علاقہ جات میں معاملات کو سنبھالنے کا وسیع تجربہ ہے۔
آرمی چیف جنرل قمرباجوہ بطور میجر جنرل فورس کمانڈ ناردرن ایریاز بھی رہےہیں۔
جنرل باجوہ کانگو میں اقوام متحدہ کے امن مشن میں انڈین آرمی چیف جنرل بکرم سنگھ کے ساتھ بطور بریگیڈ کمانڈر کام کرچکے ہیں ۔
جنرل قمر باجوہ ماضی میں انفنٹری سکول کوئٹہ میں کمانڈنٹ بھی رہ چکے ہیں۔ آپ انتہائی پیشہ ور افسر ہیں،ساتھ ہی بہت نرم دل بھی رکھتے ہیں، وہ غیر سیاسی اور انتہائی غیر جانبدار سمجھے جاتے ہیں۔ان کا تعلق انفرنٹری کے بلوچ رجمنٹ سے ہے جہاں سے ماضی میں تین آرمی چیف آئے ہیں اور ان میں جنرل یحی خان، جنرل اسلم بیگ اور جنرل کیانی شامل ہیں۔
چیف آ ف آرمی سٹاف بننے سے قبل وہ جی ایچ کیو میں جنرل ٹرینیگ اور ایولیوشین کے انسپکٹر جنرل تھے۔ ان کے دور میں دہشت گردی کے خلاف جنگ میں تیزی آئی ، ملک میں آپریٹ کرنے والے دہشت گردوں اور را کے ایجنٹوں کے نیٹ ورک کو توڑ دیا گیا۔
ان کی کمانڈ میں فروری 2017 میں دہشتگردوں کے خلا ف ایک بہت ہی جامع آپریشن رد الفساد شروع کیا گیا جس کے تحت ملک میں دہشت گردوں کے سلیپر سیلز اور ان کے سہولت کاروں کا بھی خاتمہ کیا گیا اور اسلحے کے استعمال کو کم کیا گیا ۔ ساتھ ہی ساتھ ایل او سی پر بھارت کو منہ توڑ جواب دیے گئے اور انہی کے دور میں رواں سال27 فروری کو پاک فضائیہ نے بھارت کے دو لڑاکا طیارے ایل او سی پر مار گرائے تھے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں