تصویر لیک ہونے کے معاملہ کی رپورٹ سپریم کورٹ میں جمع

اسلام آباد: پاناما کیس کی تحقیقات کرنے والی جے آئی ٹی نے وزیراعظم نواز شریف کے صاحبزادے حسین نواز کی تصویر لیک ہونے کے حوالے سے اپنی رپورٹ سپریم کورٹ میں جمع کرادی۔
حسین نواز کی تصویر لیک ہونے سے متعلق کیس کی سماعت جسٹس اعجاز افضل کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ نے کی۔ اس موقع پر پاناما کیس کی تحقیقات کرنے والی جے آئی ٹی نے جوڈیشل اکیڈمی سے حسین نواز کی تصویر لیک ہونے سے متعلق سر بمہر رپورٹ جمع کرائی۔ ذرائع کے مطابق رپورٹ میں ساری تفصیلات درج ہیں کہ حسین نواز کی تصویر کیسے لیک ہوئی اور کس نے لیک کی۔
اس موقع پر خواجہ حارث نے کہا کہ ہمیں جے آئی ٹی پر تحفظات ہیں جبکہ ایک مسئلہ جے آئی ٹی میں ویڈیو ریکارڈنگ کا بھی ہے، جس پر جسٹس اعجاز افضل نے کہا کہ ویڈیو ریکارڈنگ پر کوئی قانونی پابندی نہیں ہے، ویڈیو ریکارڈنگ کا مقصد انٹرویو کا ٹرانسکرپٹ تیار کرنا ہے۔
جسٹس اعجازالاحسن نے کہا کہ جے آئی ٹی کو محدود وقت میں کام مکمل کرنے کا کہا گیا جبکہ جسٹس اعجاز افضل نے کہا کہ آپ جے آئی ٹی کا جواب پڑھے بغیر دلائل دینا چاہتے ہیں تو آپ کی مرضی ہے، آپ جے آئی ٹی رپورٹ پر اعتراضات بھی جمع کرا سکتے ہیں۔ عدالت نے کیس کی سماعت بدھ تک ملتوی کرتے ہوئے خواجہ حارث کو کہا کہ آپ کا جواب پرسوں سن لیں گے۔
جے آئی ٹی نے سپریم کورٹ میں مختلف اداروں کی جانب سے عدم تعاون کی شکایت پر مبنی درخواست بھی جمع کرائی جس میں کہا گیا ہے کہ مختلف ادارے ریکارڈ فراہم نہیں کر رہے، اداروں کی جانب سے ریکارڈ میں تبدیلی کی جا رہی ہے، سپریم کورٹ کے حکم کے مطابق 60 روز میں تحقیقات مکمل کرنا ہے لہذا عدالت عظمیٰ تحقیقات کی بروقت تکمیل کیلئے مناسب احکامات جاری کرے۔
سپریم کورٹ نے جے آئی ٹی کو درپیش مشکلات کی رپورٹ پر اٹارنی جنرل سے جواب طلب کرتے ہوئے کہا کہ اٹارنی جنرل آفس نے وفاق کی نمائندگی کرنی ہے لہذا معاملات پر عدالت کی معاونت کریں۔ جے آئی ٹی کی تصویر لیکس پر رپورٹ پبلک کرنے یا نہ کرنے کا فیصلہ اٹارنی جنرل آفس کرے۔
جسٹس اعجاز الااحسن نے کہا کہ ریاستی عہدیدار جے آئی ٹی میں پیش ہونے کے بعد خط لکھتے ہیں، لکھے جانے والے خطوط کو میڈیا پر پبلک کیا جاتا ہے، کیا ریاستی عہدیداروں کی جانب سے ایسا رویہ مناسب ہے۔ جسٹس اعجازالاحسن نے کہا کہ بہت سنجیدہ الزامات ہیں کہ کچھ ادارے ریکارڈ تبدیل کر رہے ہیں اگر رکاوٹیں رہیں تو جے آئی ٹی کیلئے 60 روز میں اپنا کام مکمل کرنا مشکل ہو گا، اٹارنی جنرل آفس کل تک اپنے جوابات جمع کرائے۔ جسٹس عظمت سعید نے ریمارکس دیئے کہ سنجیدہ الزامات ہیں ان کے دور رس نتائج نکلیں گے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں