بینظیر بھٹو شہیدکی آج 64ویں سالگرہ ہے

نیوز ویوز(گڑھی خدا بخش):بینظیر بھٹو شہید کا نام پاکستانی سیاست میں کسی تعارف کا محتاج نہیں۔ ان کے بہت سے تعارف میں سے سب سے معروف تعارف تھا “عظیم باپ کی عظیم بیٹی”

بھٹو کی بیٹی سیاست کے میدان میں آئی اور پھر چھا گئی، عوام کے حقوق کے لئے جد و جہد کر کے بے نظیر بھٹو نے سیاست کے ایوانوں میں اپنا سکہ منوایا اور مسلم دنیا کی پہلی خاتون وزیر اعظم بننے کا اعزاز بھی حاصل کیا

اکیس جون 1953ء کو جنم لینے والی ذوالفقار علی بھٹو کی لاڈلی پنکی، بے نظیر بھٹو نے کم سنی میں ہی سیاست کے خاردار راستے کو چن لیا۔ جنرل ضیاء کا مارشل لاء نافذ ہوا تو بے نظیر بھٹو جمہوریت کو بحال کروانے کے لئے میدان میں آ گئیں۔ جیل، جلاوطنی اور دیگر مصیبتوں کی پروا کئے بغیر آمریت سے ٹکرا گئیں۔

بینظیر کی جدوجہد کے نتیجے میں 1988ء میں انتخابات ہوئے تو وہ مسلم دنیا کی پہلی خاتون وزیر اعظم بنیں۔ 1990ء میں ان کی حکومت ختم کی گئی اور ساتھ ہی ان پر مقدمات اور مصیبتوں کے پہاڑ گرا دیئے گئے۔ بی بی شہید بلاول بھٹو کو گود میں اٹھا کر عدالتوں میں پیش ہوتی رہیں۔ 1993ء میں دوبارہ اقتدار میں آئیں تو فاروق لغاری کے ہاتھوں پھر ان کی حکومت کا خاتمہ ہوا۔ آصف علی زرداری جیل گئے۔ بے نظیر بھٹو کو جلاوطن ہونا پڑا۔ جنرل مشرف کے دورمیں بھی بی بی نے مقدمات کا سامنا کیا۔ 18 اکتوبر 2007ء کو وطن واپس آئیں تو کراچی میں قاتلانہ حملے کا سامنا کرنا پڑا مگر پھر بھی بے نظیر بھٹو دلیری سے دہشتگردوں کو للکارتی رہیں۔ بے نظیر پر دوسرا حملہ ستائیس دسمبر دو ہزار سات کو ہوا جس میں انہوں نے جام شہادت نوش کیا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں