بھارت کا کلبھوشن یادیو تک قونصلر کو رسائی دینے کا مطالبہ

نئی دہلی: بھارت کی وزارت خارجہ نے فوجی عدالت کی جانب سے اپنے جاسوس کلبھوشن یادیو کو پھانسی کی سزا سنائے جانے کے معاملے پر پاکستان کے ڈپٹی ہائی کمشنر کو طلب کرکے انھیں کلبھوشن تک قونصلر کو رسائی دینے کا نیا مطالبہ کردیا۔

ذرائع کے مطابق وزارت خارجہ کے حکام نے سید حیدر شاہ سے ملاقات کے دوران دعویٰ کیا کہ کلبھوشن یادیو بے قصور ہے اور اس کو غلط الزامات میں نامزد کیا گیا ہے۔

5 روز قبل پاکستان کیلئے بھارتی سفیر گوتم بمباوالے نے پاکستان کے سیکریٹری خارجہ سے ملاقات کی تھی اور کلبھوشن یادیو کے خلاف تیار کی گئی چارج شیٹ اور کیس میں عدالتی حکم کی تصدیق شدہ کاپی فراہم کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔

بھارتی سفیر نے سیکریٹری خارجہ سےملاقات کے بعد کہا تھا کہ ‘ہم اس فیصلے کے خلاف اپیل دائر کرنا چاہتے ہیں لیکن ہم ایسا اس وقت تک نہیں کرسکتے جب تک ہمیں چارج شیٹ اور عدالتی حکم نامے کی کاپی نہیں مل جاتی.

آئی ایس پی آر کے بیان میں کہا گیا تھا کہ بھارتی خفیہ ایجنسی ’را‘ کے حاضر سروس افسر کلبھوشن یادیو کو یہ سزا پاکستان میں جاسوسی اور تخریب کاری کی کارروائیوں پر سنائی گئی، ادارے کا مزید کہنا تھا کہ فیلڈ جنرل کورٹ مارشل (ایف جی سی ایم) نے پاکستان آرمی ایکٹ کے تحت کلبھوشن یادیو کا ٹرائل کیا اور سزا سنائی۔

ائی ایس پی آر کلبھوشن یادیو کا فیلڈ جنرل کورٹ مارشل نے پاکستان آرمی ایکٹ 1952 کے سیکشن 59 اور سرکاری سیکرٹ ایکٹ 1923 کے سیکشن 3 کے تحت ٹرائل کیا گیا.

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں