بھارت اور امریکہ کا سی پیک کے مقابلے میں نیو سلک روڈ اور انڈوپیسفک اکنامک کوریڈور پر غور

اقوام متحدہ نے کہا ہے کہ سی پیک سے پاک بھارت کشیدگی بڑھے گی جبکہ ایک امریکی جرنیل کا کہنا ہے کہ بھارت پاکستان کیخلاف تادیبی ایکشن لے سکتاہے ادھر ون بیلٹ ون روڈ کے مقابلے پر امریکا نے بھی خطے میں دو نئے منصوبے شروع کرنیکا اعلان کر دیا ہے۔
امریکا نے ون بیلٹ ون روڈ منصوبے کے جواب میں جنوبی اور جنوب مشرقی ایشیا میں انفرا اسٹرکچر کے دو بڑے منصوبوں پر غور شروع کر دیا ہے، امریکا کا یہ بھی کہنا ہے کہ بھارت مسلسل پاکستان کوسفارتی سطح پرتنہا کرنے کیجانب پیشرفت کر رہا ہے جبکہ اقوام متحدہ نے اپنی ایک رپورٹ میں کہا ہے کہ پاکستان اوربھارت کے درمیان مسئلہ کشمیر تشویش کی بات ہے، سی پیک کی وجہ سے پاکستان کی بھارت کے ساتھ کشیدگی میں اضافہ اور سیاسی عدم استحکام پیدا ہو سکتا ہے۔
خبر ایجنسی کیمطابق امریکا چین کے ون بیلٹ ون روڈ منصوبے کے جواب میں جنوبی اور جنوب مشرقی ایشیا میں انفرا اسٹرکچر کے دو بڑے منصوبوں پر غور شروع کر دیا ہے۔ نیو سلک روڈ اور انڈوپیسفک اکنامک کوریڈور نامی ان مجوزہ منصوبوں میں بھارت اور افغانستان کو اہم کردار دیا جا سکتا ہے۔
ادھر بھارتی اخبارکی رپورٹ کیمطابق نیوسلک روڈ منصوبے کا پہلی مرتبہ ذکر سابق امریکی وزیر خارجہ ہلیری کلنٹن نے جولائی 2011ء میں اپنے دورہ بھارت کے دوران کیا تھا۔ امریکی محکمہ خارجہ نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ نئے بجٹ میں مذکورہ دونوں منصوبوں کیلیے فنڈز مختص کیے جانے کا امکان ہے۔ نیوسلک روڈ منصوبے مبں بنیادی توجہ افغانستان اور اسکے ہمسایہ ممالک پر مرکوزکی جائے گی جبکہ انڈوپیسفک اکنامک کوریڈور جنوبی ایشیاکو جنوب مشرقی ایشیا کے ساتھ ملانے کا منصوبہ ہوگا۔ ان منصوبوں کے ذریعے متعلقہ خطوں میں سرمایہ کاری او رتجارت کو فروغ دیا جائیگا۔
بھارتی اخبار نے کہا ہے کہ سابق صدر براک اوباما کے دوسرے دور حکومت میں جان کیری کے وزیر خارجہ بننے سے یہ دونوں منصوبے پس منظر میں چلے گئے تھے۔ آئی این پی کے مطابق معروف اخبار فرسٹ پوسٹ میں شائع کردہ رپورٹ کے مطابق دونوں منصوبوں کا خاکہ گذشتہ روز بجٹ میں نئی شاہراہ اور ریشم منصوبہ کے نام سے شامل کیا گیا، یہ اس بات کی طرف واضح اشارہ ہے کہ اس پر عملدرآمد کیا جائیگا۔
امریکی محکمہ خارجہ کا کہنا ہے کہ جنوب اور وسطی ایشیا کی اس بجٹ درخواست کے ان اقدامات کی تائیدکی جائیگی۔ نیوسلک روڈ افغانستان اور اسکے ہمسائیہ ممالک اور ہند بحرالکاہل جنوب اور جنوب مشرقی ایشیائی ممالک کو ملائے گی۔ اس منصوبہ کیلئے علاقائی ممالک کے ساتھ مشترکہ سرمایہ کاری کی جائیگی اور تعاون کیلیے کثیرالجہتی ترقیاتی بینکوں اور نجی شعبہ سے بھی مدد لی جائیگی۔ امریکی اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ دور رس عوامی سفارت کاری کے پروگراموں میں بھارت افغانستان اور دیگر علاقائی ممالک کی بھر پور حمایت کریگا۔ افغانستان میں اقتدار کی منتقلی بتدریج جاری ہے اوراس منصوبہ کی بدولت افغان عوام کامیاب اور اپنے طور پر کھڑے ہو سکیں گے۔
امریکی محکمہ خارجہ تعلقات کونسل کے جیمز میک برائڈ کے مطابق این ایس آر مشترکہ سرمایہ کاری کے منصوبوں اور وسطی ایشیا کو اقتصادی ترقی اور استحکام لانے کی صلاحیت ہے۔
خبر ایجنسی کے مطابق اقوام متحدہ کے اکنامک اینڈ سوشل کمیشن برائے ایشیا اورپیسفک نے چین کی درخواست پر تیار کی گئی ایک رپورٹ میں کہا ہے کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان مسئلہ کشمیر تشویش کی بات ہے، چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) کی وجہ سے پاکستان کی بھارت کے ساتھ کشیدگی میں اضافہ اور سیاسی عدم استحکام پیدا ہو سکتا ہے۔
رپورٹ میں ان خدشات کا اظہار کیا گیا کہ افغانستان میں سیاسی عدم استحکام ٹرانزٹ کوریڈور کے ممکنہ فوائد کو کابل اور قندھارکی مرکزی آبادی تک محدود کر سکتا ہے۔ یہ رپورٹ بعنوان دی بیلٹ اینڈ روڈ انیشی ایٹو اینڈ رول آف ای ایس سی اے پی، بیلٹ اینڈ روڈ منصوبے کے تحت ایشیا، یورپ اور افریقہ پر مشتمل6 اکنامک کوریڈورز کا احاطہ کرتی ہے۔
رپورٹ کیمطابق سی پیک کے تحت دونوں ممالک کے درمیان تجارت، سرمایہ کاری اور توانائی منصوبوںکا مکمل کیا جانا ہے جس سے چین اور اس کے تجارتی پارٹنرز کیلیے سمندری راستے پیدا ہوں گے، سی پیک سے چین، پاکستان، ایران، انڈیا، افغانستان اور وسط ایشیائی ممالک کے درمیان تجارت میں اضاف ہو گا۔
خبر ایجنسی کے مطابق امریکہ کے ڈیفنس انٹیلی جنس ادارے کے ڈائریکٹرلیفٹیننٹ جنرل وینسنٹ اسٹیورٹ نے کہا ہے کہ بھارت مسلسل پاکستان کوسفارتی سطح پر تنہا کرنے کیجانب پیشرفت کر رہا ہے اور سرحد پار دہشتگردی کی معاونت کے الزام میں اسلام آباد کیخلاف پاداشی اقدامات پر بھی غور کر رہا ہے۔
علاوہ ازیں غیرملکی خبرایجنسی کے مطابق لیفٹیننٹ جنرل وینسنٹ سٹیورٹ نے سینٹ آرمڈ سروسز کمیٹی کی سماعت کے دوران ارکان کو بتایا بھارت بحیرہ ہند میںبھارتی مفادات کے تحفظ اورایشیاء بھرمیں اپنی معاشی وسفارتی رسائی بہتر بنانے کیلئے اپنی فوج میں جدت پیدا کر رہا ہے، بھارت میں متعدد دہشتگردانہ حملوں کے بعددونوں ممالک کے درمیان تعلقات انتہائی کشیدہ ہیں۔ انہوں نے مزید بتایا 2017ء میں بھارت کا پاکستان کی مغربی سرحد کے ساتھ روایتی انسداددہشتگردی آپریشنزکی بتدریج منتقلی اور ملک بھرمیں پیراملٹری آپریشنز کا امکان ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں