بھارتی گلوکار سونو نگم کی آذان سے متعلق

بھارتی گلوکار سونو نگم نے اذان سے متعلق انتہائی نازیبا ٹوئٹ کی ہے جس کی بنیاد پر انہیں بھارت میں بلا تفریق شدید تنقید کا نشانہ بنایا جارہا ہے۔

سونو نگم نے اپنی ایک ٹویٹ میں لکھا ہے کہ اگرچہ وہ مسلمان نہیں لیکن پھر بھی انہیں اذان کی آواز سے صبح جاگنا پڑتا ہے؛ بھارت میں یہ جبری مذہب پرستی کب ختم ہوگی۔
اگلی ٹویٹ میں انہوں نے لکھا کہ ابتدائے اسلام کے زمانے میں بجلی نہیں تھی تو ایڈیسن کی ایجاد کے بعد وہ یہ شور شرابا کیوں برداشت کریں:
اور ان کے خیال میں کوئی بھی مندر یا گوردوارا اپنے سے مختلف عقیدہ رکھنے والوں کو جگانے کےلیے لاؤڈ اسپیکر کا استعمال نہیں کرتا، تو پھر یہ سب کیوں:

لاؤڈ اسپیکر سے فجر کی اذان کو انہوں نے ’’غنڈہ گردی‘‘ تک قرار دے دیا:

ان ٹویٹس کے جواب میں سونو نگم کے مداحوں نے حمایت اور مخالفت میں تبصروں کے ڈھیر لگادیئے۔ دلچسپی کی بات تو یہ ہے کہ اذان کے بارے میں سونو نگم کی ٹویٹ پر اعتراض کرنے والوں کی بڑی تعداد غیر مسلموں کی تھی جن میں سے کچھ نے انہیں جتایا کہ بھارت ایک سیکولر ملک ہے اور انہیں دیگر مذاہب کا احترام سیکھنا چاہیے جبکہ بعض لوگوں نے انہیں کانوں میں روئی ٹھونسنے کا مشورہ بھی دیا:

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں