بھارتی حکومت نے کشمیر میں فضائی حملے کی منظوری دے دی

بھاتی خبر رساں ادارے کے مطابق مقبوضہ وادی کشمیر میں مجاہدین کے ٹھکانوں پر فضائی حملے کیلیے دہلی پرائم منسٹر آفس میں اجلاس ہوا جس میں بھارتی افواج کے تینوں سربراہان، وزیر داخلہ اور سینئر مرکزی وزیر سمیت اعلیٰ انٹیلی جنس حکام نے شرکت کی۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ مقبوضہ کشمیر کے علاقوں میں آپریشن جیٹ کو جاری رکھنے کیلیے وزیراعظم کی جانب سے مکمل تائید حاصل ہے جبکہ کشمیر میں مجاہدین کے ٹھکانوں پر فضائی حملوں میں بھارتی ایئرفورس کو اسرائیلی ماہرین کی سپورٹ حاصل ہے۔ اس طرح ایشیا کے سب سے بڑے جمہوری ملک بھارت نے مقبوضہ کشمیر میں عوام کو کچلنے کیلیے ایک بڑا منصوبہ تیار کرلیا، بھارت کے صدر پرنب مکھرجی نے مقبوضہ کشمیر میں فضائی حملوں کی منظوری دینے کے بعد حکم نامہ جاری کردیا ہے کہ اِن ’’ مجاہدین ‘‘ کو فضائی حملوں کے ذریعے مارا جائے جبکہ بی ایس ایف، پولیس اور فوج کو خصوصی ہدایت کی گئی ہے کہ وہ ان کو مجاہدین ، دہشت گرد قرار دیکر میڈیا کے سامنے ان کی لاشیں پیش کی جائیں جس کے بعد اندرون خانہ مقبوضہ کشمیر میں اپنی سرگرمیاں شروع کردی ہیں جبکہ 24 سے زائد پاکستانی شہریوں کو گرفتاری کے بعد خفیہ ایجنسی ’’ آئی ایس آئی‘‘ کے اہلکار شو کرنے کے بعد بھارت نئی سازش میں مصروف ِ عمل ہے۔
یو این او کی نمائندہ تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل نے اقوام ِ متحدہ کو مکتوب ارسال کردیا۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل کے نمائندے نے مرکزی دفتر یو ایس اے اور اقوام ِ متحدہ کے دفتر کو باقاعدہ مکتوب ارسال کردیا ہے کہ بھارت کو عالمی قوانین کی خلاف ورزی کرنے پر ایسے اقدام سے روک کر مقدمہ درج کیا جائے جبکہ بھارت نے پاکستان کے ملحقہ علاقوں سے 25 سے زائد شہریوں کو اغوا کر لیا ہے.

دوسری طرف مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فورسز کی طرف سے طلبا پرطاقت کے وحشیانہ استعمال اور دیگر مظالم کے خلاف وادی کشمیرمیں زبردست مظاہرے کیے گئے ۔ مظاہرین پر بھارتی فوجیوں اورپولیس اہلکاروںکی طرف سے ظالمانہ کارروائیوں سے متعدد مظاہرین زخمی ہوگئے۔کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق سرینگر، بڈگام ، گاندربل، سوپور، پلہالن ، پٹن ، بارہمولہ ، اسلام آباد ، پلوامہ ، حاجن ، شوپیان ، کولگام ، کپواڑہ ، بانڈی پورہ اور دیگر علاقوں میں لوگوںنے سڑکوں پر نکل کر آزادی اور پاکستان کے حق میں اور بھارت کے خلاف نعرے بلند کیے۔ انھوں نے متعدد مقامات پر پاکستانی پرچم بھی لہرائے۔
ضلع بانڈی پورہ کے علاقے حاجن میں لوگوں نے نماز جمعہ کے بعد زبردست بھارت مخالف مظاہرے کیے۔ حریت فورم کے چیئرمین میر واعظ عمر فاروق نے جامع مسجد سرینگر میںا یک اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے معروف آزادی پسند رہنماؤں شہید میر واعظ مولوی محمد فاروق اور خواجہ عبدالغنی لون اور شہدائے حول کو زبردست خراج عقیدت پیش کیا ہے۔ انھوں نے ان شہداکی یاد میں منائے جانیوالے ہفتہ شہادت کے سلسلے میں مختلف پروگراموں کا بھی اعلان کیا۔ کل جماعتی حریت کانفرنس کے چیئرمین سید علی گیلانی نے سرینگر میں جاری ایک بیان میں بھارتی فوجیوں اور پولیس اہلکارو ں کے طلبہ پر مظالم کی شدید مذمت کی ہے۔ دریں اثنا گزشتہ روز پلوامہ میں بھارت مخالف مظاہروں کے دوران بھارتی فورسز کی طرف سے دکانوں کی لوٹ مار کے خلاف قصبے میں مکمل ہڑتال کی گئی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں