بچاو کے لئے بریف کیس تیار۔۔۔۔۔!!!

پانامہ معاملے پر جے آئی ٹی کی ابتدائی کارروائی سے ظاہر ہو رہا ہے کہ شریف فیملی کے خلاف فیصلے ک امکانات بڑھتے جا رہے ہیں جس کی وجہ سے حکمران جماعت تناو کا شکار ہے اور اس نے ماضی جیسے ہتھکنڈے اپنانے کی منصوبہ بندی کر لی ہے۔

………………..

ملک کے معتبرآئینی اور قانونی حلقوں کے مطابق پانامہ پر جوائنٹ انوسٹی گیشن ٹیم کی اب تک کی کارروائی میں حکمران خاندان جے آئی ٹی کے ارکان کو مطمئن کرنے میں ناکام رہا ہے۔ منی ٹریل پر ناکافی شواہداور بیانات میں عدم تسلسل کے پیشِ نظر شریف خاندان میں ہر گزرتے دن کے ساتھ یہ احساس گہرا ہو رہا ہے کہ فیصلہ ان کے حق میں آنے کے امکانات نہ ہونے کے برابر ہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ جے آئی ٹی نے جس ٹیکنیکل انداز میں کارروائی کی، شریف خاندان کو اس کی ہرگز توقع نہ تھی،جس کی وجہ سے وہ پوچھ گچھ کے دوران اکثر لاجواب ہوتے رہے۔ تحقیقات میں کمزور استدلال اور ناکافی شواہد پر جہاں حکمران خاندان شدید مایوسی سے دوچار رہے وہیں حکمران جماعت مسلم لیگ بھی سخت تناو کا شکار ہے۔ ن لیگ کے وزیر، مشیر شاہ سے زیادہ شاہ کے وفادار بننے کے لئے کوشاں ہیں۔ اعلیٰ قیادت کے گرین سگنل پر نواز لیگ نے شریف خاندان کے خلاف کسی بھی فیصلے کو رکوانے کی تیاری کر لی ہے۔ فیصلہ رکوانے یا تبدیل کرانے میں ناکامی کی صورت میں حکمران جماعت نے فیصلے کو متنازعہ بنانے کے لئے ہر حد تک جانے کی منصوبہ بندی بھی کر لی ہے۔ سیاسی حلقوں کا کہنا ہے کہ مسلم لیگ نون کا کوئی بھی ہتھکنڈہ کارگر ثابت نہ ہوا تو وہ سیاسی شہید بن کرانتخابی میدان میں اترے گی جواس کے پاس آخری آپشن ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں