آئی جی سندھ کی تعیناتی سے متعلق سندھ گوورنمنٹ کو شرمندگی کا سامنا

آئی جی سندھ اے ڈی خواجہ کی تعینا تی سے متعلق سماعت کے موقع پر ایڈوکیٹ جنرل سندھ کی جانب سے عدالت کو بتایا گیا  ہے کہ سندھ کابینہ کی جانب سے آئی جی کی تبدیلی کی منظوری دی جا چکی ہے،عدالت نے ایڈوکیٹ جنرل کے بیان کی روشنی میں سندھ کابینہ کے اجلاس کی تحریری دستاویزات طلب کر لی ہیں۔

سماعت کے موقع پر ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے اپنے دلائل میں کہا ہے کہ صوبائی حکومت آئی جی کو ہٹانے کا اختیار نہیں رکھتی آئی جی کی تعیناتی وفاقی حکومت کی زمہ داری ہے۔ اور ابھی تک اس عہدے کے لیے کوئی دوسرا نام زیر غور نہیں۔درخواست گزار کے وکیل فیصل صدیقی کا کہنا تھا کہ قانون کے مطابق وفاق کسی ایسے مسئلے پر قانون سازی کا اختیار متعلقہ گورنر کے زریعے ہی رکھتا ہے جو صوبائی حکومت کی زمہ داریوں میں شامل ہو

عدالت نے تنبیہ کی ہے کہ حکم امتناعی کی خلاف ورزی نہ ہو۔وفاق نے بھی آئی جی کی تعیناتی سے متعلق اپنا جواب جمع کروا دیا ہے۔وفاق کا کہنا ہےکہ آئی جی کی تعیناتی سے متعلق صوبوں میں اتفاق ہوا تھا کسی بھی صوبے میں آئی جی کی تعیناتی مشاورت سے ہوگی اس کہ باوجود آئی جی کی تعیناتی کا حتمی فیصلہ وفاقی حکومت کرے گی۔کوئی بھی صوبائی حکومت وفاق سے منظوری لیے بغیر کسی افسر کو پرموٹ نہیں کرے گی۔

سندھ ہائی کورٹ نے فیصلے کے خلاف درخواست مسترد کرتے ہوئے آئی جی سندھ اے ڈی خواجہ کو کیس کے حتمی فیصلے تک کام جاری رکھنے کا کہا ہے۔ فیصلے کے خلاف نظر سانی کی درخواست مسترد کیے جانے پر سندھ گورنمٹ کو شرمندگی کا سامنا کرنا پڑا ہے۔کیس کی مزید سماعت گیارہ اپریل تک ملتوی کر دی گی ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں