اووسیزپاکستانیوں کے مقدمات کو فاسٹ ٹریک پر سنا جائے گا.

چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ سید منصور علی شاہ کا اوورسیز پاکستانیز کمیشن کے وفد سے ملاقات کے موقع پر اظہار خیال کرتے ہوئے کہا ہے کہ اوور سیز پاکستانیوں کے مقدمات کو فاسٹ ٹریک پر سنا جائے گا.
چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ مسٹر جسٹس سید منصور علی شاہ سے اوور سیز پاکستانیز کمیشن کے وفد نے ملاقات کی، وفد کی قیادت کمیشن کے وائس چیئرپرسن شاہین خالد کر رہے تھے جبکہ وفد میں کمشنر محمد افضال بھٹی، ڈائریکٹر جنرل جاوید اقبال بخاری اور ڈائریکٹر لیگل راجہ زبیر بھی شامل تھے۔ اس موقع پر ڈائریکٹر جنرل ڈسٹرکٹ جوڈیشری محمد اکمل خان اور سیکرٹری ٹو چیف جسٹس شاہد شفیع بھی موجودتھے۔
اوورسیز کمیشن کے وائس چیئرپرسن نے چیف جسٹس سید منصور علی شاہ کو لاہور ہائی کورٹ اور ضلعی عدلیہ میں اوورسیز پاکستانیوں کے زیر التواءمقدمات سے متعلق آگاہ کیا اور دیگر اس حوالے سے دیگر درپیش مسائل بتائے۔ فاضل چیف جسٹس نے کہا کہ اس وقت اوورسیز پاکستانیوں کے 262 مقدمات زیر التواءہیں جبکہ گزشتہ چھ مہینوںمیں 66 مقدمات کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ فاضل چیف جسٹس نے مزید کہا کہ لاہور ہائی کورٹ میں زیر التواءمقدمات کےلئے ایک خصوصی بنچ تشکیل دیا جا رہا ہے جبکہ صوبہ بھر کے ہر ضلع میں دو دو عدالتیں مختص کی جارہی ہیں جن میں ایک ٹرائل کورٹ جبکہ دوسرے ایپلیٹ کورٹ کے طور پر کام کرے گی اور مقدمات کو فاسٹ ٹریک پر سننے کی ہدایات بھی جاری کی جاری کی جارہی ہیں۔ فاضل چیف جسٹس نے کمیشن سے کہا کہ وہ ایک فوکل پرسن نامزد کریں جو اس معاملہ میں عدالت عالیہ سے رابطے میں رہے، مزید برآں ڈی جی ڈسٹرکٹ جوڈیشری اور ڈی جی اووسیزپاکستانیزکمیشن بھی مہینے میں ایک بار ضرور میٹنگ کریں گے اورلاہور ہائی کورٹ کی جانب سے جاری ہدایات پرعملدر آمدکا جائزہ لیں گے۔فاضل چیف جسٹس نے کمیشن کے حکام سے کہا کہ وہ اگست میں دوبارہ آئیںاوراووسیز پاکستانیوں کے مقدمات کے حل کےلئے اٹھائے جانے والے اقدامات کے حوالے سے آگاہ کریں۔ اس موقع پر کمیشن کے وائس چیئرمین شاہین خالد اور کمشنر افضال بھٹی نے فاضل چیف جسٹس کا شکریہ ادا کیا اوراووسیزپاکستانیوں کی سہولت کےلئے فوری اقدامات اٹھانے کو سر اہتے ہوئے کہا کہ ضلعی عدالتوں کو اوورسیز پاکستانیوں کے کیسوںکے جلد فیصلے کی ہدایات سے زیر التواءمقدمات کو نمٹانے میں خاطر خواہ مدد ملے گی۔ انہوں نے کہا کہ سمندر پار مقیم پاکستانی تھوڑے عرصے کےلئے ملک آتے ہیں اور انکے مقدمات کے جلد فیصلے سے انہیں نمایاں ریلیف مل سکتا ہے۔قبل ازیں شاہین خالد اور افضال بھٹی نے فاضل چیف جسٹس کو کمیشن کی کارکردگی اور اوورسیز پاکستانیوں کی شکایات کے ازالے کےلئے کئے جانے والے اقدامات کی تفصیل سے بھی آگاہ کیا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں