انسانیت کا علمبردار بھارت،دلتوں کے ساتھ انسانیت سوز سلوک

1950 میں بھارت نے ہندو ذات پات کو ختم کردیا تھا لیکن اس کے باوجود صدیوں پرانی تفریق اور تعصب بھارتی معاشرے میں موجود ہے۔ بھارت کی ایک ارب 20 کروڑ کی آبادی میں 84 فیصد ہندو ہیں
جبکہ سولہ فیصد دلت ذات سے تعلق رکھتے ہیں اس تناسب سے دلتوں کی آبادی تقریبا انیس کروڑ 20 لاکھ بنتی ہے. بھارت میں 19 کروڑ دلت آج کی ترقی یافتہ اور مہزب دنیا میں ذلت و رسوائی کی زندگی گزارنے پر مجبور ہیں. اور بھارتی معاشرہ آج بھی برہمن، کیشتریا، ویشیا اور شودر جیسے طبقات میں تقسیم ہیں. طبقاتی تقسیم کے اس ظالمانہ نظام میں دلت (نچلی ذات) یا شودر بھارتی کچرا اْٹھانے اور صفائی وغیرہ کے کام کررہے ہیں اور روزانہ نچلی ذات کے یہ لوگ کسی نہ کسی طرح بے حس اور ظالمانہ ہندو سماج کی بے حسی اور ظلم کا نشانہ بنتے ہیں .آج اکسویں صدی میں جہاں انسان کے قدم چاند تک پہنچ گئے ہیں ہندو ستان میں ذات پات کا ظالمانہ اور غیر منصفانہ نظام ان انیس کروڑ انسانوں کو بے حسی اور ظلم کی زنجیروں میں جکڑے ہوئے ہے. ہندو سماج کی ناانصافیوں سے تنگ ہو کر دلت اسلام کی جانب مائل ہو رہے ہیں . لیکن مذہب بدلنے کے بعد بھی دلتوں کو خاندانی عداوت اور دیگر مسائل کا سامنا ہے.انہیں اونچی ذات کے لوگوں کی جانب سے تشدد کا نشانہ بنایا جاتا ہے اور قتل کی دھمکیاں دی جاتی ہیں اس کے علاوہ ان کا معاشی بائیکاٹ بھی کر دیا جاتا ہے.علی گڑھ کے دو ہزار دلتوں نے بڑی ذاتوں کے ظلم وستم سے تنگ آ کر اسلام قبول کیا تو نا صر ف مقامی ٹھاکروں کی جانب سے انہیں جان سے مار دینے کی دھمکیاں دیں گئی بلکہ متعدد بار ان پر قاتلانہ حملے بھی کیے گئے.
بھارتی معاشرے میں ہر سطح پر دلتوں کے ساتھ انسانیت سوز سلوک ہوتا نظر آتا ہے.

بھارت میں ایک اندازے کے مطابق 37.8 فیصد سکولوں میں دلتوں کے بچوں کو باقی بچوں سے علیحدہ بیٹھنے پر مجبور کیا جاتا یے .جبکہ ہائی سکولوں میں نہ صرف والدین بلکہ اساتذہ کی جانب سے بچوں کو تلقین کی جاتی ہے کہ دلت بچوں سے کسی قسم کا میل جول نہ رکھیں.
. تعلیم کے حوالے سے اس بدسلوکی کی بنا پر دلت بچے احساس کمتری کا شکار ہو کر تعلیم چھوڑ دیتے ہیں .جو 2 فیصد ہمت کرتے ہوئے یونیورسٹی تک پہنچتے ہیں وہ بھی انتظامیہ اور ساتھی طالب علموں کی بد سلوکی کی وجہ سے یا تو تعلیم چھوڑ دیتے ہیں یا پھر خود کشی کرنے پر مجبور ہو جاتے ہیں.
17 جنوری 2017 کو علی گڑھ یونیورسٹی کے 4 طلباء کو نسلی امتیاز کی بنا پر یونیورسٹی سے خارج کر دیا گیا تھا ان چار طالب علموں میں روہت ویملا نامی پی ایچ ڈی کے طالب علم نے خود کشی کر لی. مرنے سے پہلے روہت نے اپنے آخری خط میں لکھا کہ

”میری پیدائش ایک مہلک حادثہ تھی جبکہ میں مر کے زندہ رہنے سے زیادہ خوش ہوں،،
روہت کے یہ الفاظ بھارتی تعصب زدہ معاشرے کی تصویر دکھانے کے لیے کافی ہیں.بھارت میں خودکشی کرنے والے 25 طالب علموں میں سے 23 کا تعلق دلت ذات سے ہوتا ہے.
2016 کے اعدادوشمار کے مطابق ہر 18 منٹ میں تین دلت عورتوں کو زیادتی کا نشانہ بنایا جاتا ہے. ہر مہینے 13 دلتوں کو قتل کر دیا جاتا ہے .
11 اکتوبر 2014 کو ریاست بہار کے ضلع بھوجپور میں 6 دلت خواتین کو اغواء کرنے کے بعد اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنایا گیا ان میں تین کم عمر لڑکیاں بھی شامل تھیں.اسی طرح 20 اکتوبر 2015 کو ریاست ہریانہ کے ضلع فرید آباد کے علاقہ سنپیٹر میں راچپوت خاندان کے لوگوں نے دلت خاندان کے گھر کو آگ لگا دی جس کہ نتیجہ میں ایک نو ما کا بچہ اور ایک ڈھائی سال بچہ جل کر ہلاک ہو گئے.
27 فیصد دیہات میں دلت اپنے ساتھ ہونے والی ذیادتیوں کا زکر تک بھی نہیں کرتے اور نہ ہی کسی قسم کی قانونی مدد کے لیے کوشش کرتے ہیں.
آئے دن دلت اعلی ذات کے ہندووں کی زیادتیوں کا نشانہ بنتے رہتے ہیں .اسی طرح اتر پردیش کے ضلع جالون کے دلت امر سنگھ دوہرے نے ایک شادی کی تقریب میں غلطی سے اونچی ذات کے لوگوں کے ساتھ بیٹھ کر کھانا کھا لیا تھا اس جرم کی قیمت دوہرے کو اپنی ناک کٹوا کر ادا کرنی پڑی شادی ختم ہوتے ہی اونچی ذات کے ٹھاکروں نے دوہرے کی ناک کاٹ دی . انڈیا کے 70 فیصد د یہات میں دلتوں کو دوسری ذاتوں کے لوگوں کے ساتھ بیٹھ کر کھانا کھانے کی اجازت نہیں دی جاتی. جبکہ 79 فیصد دیہات میں دلت طالب علم دوپہر کے کھانے کو چھونے تک سے محروم ہیں.
دلتوں کی مجموعی آبادی کے تناسب سے 47 فیصد دلت راشن کارڈ کی سہولت سے بھی محروم ہیں. جبکہ 48 فیصد دیہاتوں میں دلتوں کو پانی کے ذخائر تک بھی رسائی نہیں دی جاتی.

دلتوں کی 52 فیصد آبادی کو زندہ رہنے کے لیے بنیادی طور پر ضرورت ز ندگی کے لیے دی جانے والی اجناس بھی زلت و حقارت سے دی جاتی ہیں.
نسلی اور طبقاتی تقسیم کی ایسی بد ترین مثال شاید ہی انسانی تاریخ میں کہی ملتی ہو. دنیا کے تمام مذاہب میں مذہبی معاملات میں کسی قسم کا امتیاز روا نہیں رکھا جاتا لیکن طبقاتی تقسیم سے متعفن ہندو معاشرے میں آج بھی 64 فیصد دیہات ایسے ہیں جہا ں دلتوں کو ان کی مذہبی رسومات ادا کرنے کی اجازت نہیں. حتی کہ انہیں مندروں میں داخل تک نہیں ہونے دیا جاتا.
ہندوستان کا قانون جس میں تمام انسانوں کو مساوی حقوق کی بات کی گئی بھی اس طبقاتی تقسیم کے اثر سے نہیں بچ سکا.
مدارس ہائی کورٹ کے جج سی ایس کارنن کو ان کی مدت ملازمت ختم ہونے کے آخری مہینے میں توہین عدالت کے جرم میں بھارتی سپریم کورٹ نے 6 ماہ کے لیے جیل بھیج دیا

.سی ایس کارنن کا قصور صرف اتنا تھا کہ انہوں نے اپنی غیر قانونی ٹرانسفر کے خلاف آواز اٹھائی تھی. سی ایس کارنن کا کہنا ہے کہ دلت ہونے کی بنا پر ان کے ساتھی ججوں کی جانب سے ان کے ساتھ انتہائی نارواں سلوک رکھا جاتا تھا جبکہ انہیں اکثر اوقات ہراساں بھی کیا جاتا تھا.
سی ایس کارنن کا کہنا ہے کہ وہ کسی ایسے ملک میں رہنا چاہتے ہیں جہاں ذات پات کا ظالمانہ نظام نہ ہو .
اکسویں صدی کے ترقی یافتہ دور میں آج بھی ہندو سماج طبقاتی نظام کی بدترین مثالوں سے بھرا پڑا ہے جہاں روزانہ نسلی و طبقاتی تقسیم کی بنا پر کئی عورتوں کو زیادتی کا نشانہ بنایا جاتا ہے کئی لوگ قتل کر دیے جاتے ہیں اور سینکڑوں بچے اس طبقاتی نظام کی بھینٹ چڑھ کر بھوک سے مر جاتے ہیں.اور لاکھوں انسان حیوانوں سےبدتر زندگی گزارنے پر مجبور ہیں.

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں