امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور روسی صدر کے درمیان ٹیلیفونک رابطہ

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور روسی صدر ولادی میر پیوٹن نےشام میں جاری لڑائی کو روکنے کے لیے جنگ بندی پر اتفاق کیا ہے۔
شام میں ایک ماہ قبل امریکی فضائی حملے کے بعد امریکہ اور روس کے درمیان حالات میں کشیدگی کے بعد یہ پہلا موقع ہے کہ دونوں صدور نے ٹیلی فون کے ذریعے بات کی۔
روس اور امریکہ کی جانب سے جاری ہونے والے بیانات کے مطابق دونوں قائدین کے درمیان معنی خیز گفتگو ہوئی ہے۔
دونوں ممالک کے صدور کے درمیان شام کے علاوہ جن دیگر موضوعات پر بات چیت ہوئی ان میں شمالی کوریا اور مستقبل میں ملاقات کے اوقات شامل ہیں۔
خیال رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے شام میں کیمیکل ہتھیاروں کے استعمال جس کا الزام شامی صدر بشار الاسد پر لگایا گیا تھا کے بعد فضائی کارروائی کا حکم دیا تھا، جبکہ روس نے شامی باغیوں پر غیر قانونی نروو گیس کے استعمال کا الزام لگایا تھا۔

خیال رہے کہ شام میں جنگ کا آغاز 2011 میں ہوا تھا
وائٹ ہاؤس کی جانب سے جاری ہونے والے بیان میں کہا گیا ہے کہ ’صدر ٹرمپ اور صدر پیوٹن اس بات پر متفق ہیں کہ شام میں تمام فریقین کو اب وہ سب کرنا چاہیے جس سے تشدد کو ختم کیا جا سکے۔‘
دونوں صدور کے درمیان گفتگو بہت اچھی رہی اور اس میں امدادی اور کئی دیگر مقاصد کے لیے طویل امن حاصل کرنے، تحفظ فراہم کرنے جیسے موضوعات پر بھی بات ہوئی۔‘
دونوں قائدین کے درمیان صدر ٹرمپ کے منتخب ہونے کے بعد پہلی ملاقات کے حوالے سے بھی تبادلہ خیال ہوا، اور روسی بیان کے مطابق دونوں صدور کے درمیان جولائی میں ہیمبرگ میں ہونے والے جی20 اجلاس کے موقع پر ملاقات متوقع ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں