امریکہ کا شام پر فضائی حملہ

  1. مشرقی بحیرہ روم میں بحری بیڑے سے تقریبا 60 ٹام ہاک کروز میزائل سے شام کے ایک فضائی اڈے کو نشانہ بنای

امریکہ نے شام میں باغیوں کے زیر اثر علاقوں میں کیمیائی حملے کے جواب میں شام کے خلاف میزائل سے کئی حملے کیے ہیں

امریکی محکمہ دفاع کے مرکز پینٹاگون کا کہنا ہے کہ مشرقی بحیرہ روم

بحری بیڑے سے تقریبا 50 ٹام ہاک کروز میزائل سے شام کے ایک ہوائی اڈے

کو نشانہ بنایا گیا ہے۔

صدر ٹرمپ کا کہنا ہے کہ انھوں نے ہی شام کی فضائی بیس پر حملے کا حکم

دیا تھا جہاں سے منگل کو شامی فضائیہ نے حملے کیے تھے۔

انھوں نے اس موقع پر ‘تمام مہذب ممالک’ سے شام میں تنازع کو ختم کرنے میںمدد کرنے کی بھی اپیل کی ہے۔

امریکہ کی جانب سے کروز میزائل حملوں کا شامی حزب اختلاف کے گروہ شیریئن نیشنل کولیشن نے خیر مقدم کیا

اتحاد کے ترجمان احمد رمضان نے خبر رساں اے ایف پی سے بات کرتے ہوئے کہا

کہ ’ہم مزید حملوں کی امید کرتے ہیں اور امید کرتے ہیں کہ یہ محض ایک آغاز ہے۔‘

واضح رہے کہ شام کے ادلب کے علاقے خان شیخون میں مشتبہ زہریلی گیس کے

حملے میں اب تک 27 بچوں سمیت کم سے کم 72 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

امریکہ اور اس کے مغربی اتحادیوں نے شام پر فضائی حملے کے دوران

کیمیائی ہتھیار استعمال کرنے کا الزام عائد کیا ہے جس کی شامی حکومت نے تردید کی ہے۔

وائٹ ہاؤس کے ایک ترجمان کا کہنا ہے کہ جس ایئر بیس کو نشانہ بنایا گيا

اس کا براہ راست تعلق خوفناک کیمیائی ہتھیاروں کے حملے سے ہی تھا۔

ترجمان کا کہنا تھا: ‘ہم نے بڑے اعتماد سے اس بات کا جائزہ لیا کہ اس ہفتے کے اوائل میں کیمیائی حملہ اسد حکومت کی کمانڈ میں اسی مقام سے فضائیہ کی مدد سے کیا گيا تھا۔’

ترجمان کا مزید کہنا تھا: ‘ہم نے اسی اعتماد کے ساتھ اس بات کا بھی جائزہ لیا کہ اسد کی حکومت نے ہی اعصاب شکن کیمیائی مادے، جس میں سرین شامل تھی، حملے کے لیے استعمال کیا۔’

ادھر شام کے ایک سرکاری ٹی وی پر اس بارے میں ایک بیان جاری کیا گيا کہ ‘امریکی جارحیت’ نے شام کی ایک فوجی اڈے پر کئی ایک میزائل سے حملہ کیا ہے تاہم اس کے علاوہ کوئی تفصیل جاری نہیں کی گئی۔

اس سے قبل امریکی وزیرِ خارجہ ریکس ٹیلرسن نے کہا تھا کہ شام کے مستقبل میں بشار الاسد کی کوئی جگہ نہیں ہے۔

انھوں نے کہا کہ شام میں منگل کو مشتبہ کیمیائی ہتھیاروں کا استعمال ایک سنگین معاملہ ہے اور اس کے لیے سنجیدہ جواب کی ضرورت ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں