امریکہ:اوہایو پولیس قتل کی ویڈیو براہ راست نشر کرنے والے قاتل کی تلاش میں

امریکی ریاست اوہایو میں کلیولینڈ پولیس اس شخص کی تلاش میں ہے جس نے ایک شخص کے قتل کو فیس بک پر لائیو نشر کیا تھا۔
سٹیو سٹیفن نامی مشتبہ شخص نے ایک علیحدہ ویڈیو پوسٹ میں کہا ہے کہ اس نے 13 افراد کا قتل کیا ہے اور وہ مزید قتل کرنے والا ہے۔
کلیولینڈ پولیس کے سربراہ کالون ولیئمز نے ایک ہلاکت کی تصدیق کی ہے اور کہا کہ انھیں باقی کسی اور ہلاکت کی معلومات نہیں ہیں۔
مسٹر ولیمز نے کہا ہے کہ مختلف قسم کی سکیورٹی فورسز مسٹر سٹیفن کی تلاش میں ہیں۔
کلیولینڈ پولیس نے ان کا شکار ہونے والے کی شناخت 74 سالہ رابرٹ گاڈون کے طور پر کی ہے۔
پولیس سربراہ کالون ولیئمز نے اتوار کو پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا: اس معاملے میں آج کی رات مزید خون بہانے کی ضرورت نہیں۔ ہمیں اسے آج کسی نتیجے پر پہنچانا ہے۔ ہمیں سٹیو کو گلیوں سے نکال کر لانا ہے۔
انھوں نے بتایا کہ حکام نے اس ‘احمقانہ’ واقعے کے بارے میں ‘اوہایو ریاست اور اس کے باہر’ انتباہ جاری کرتے ہوئے لوگوں سے اپیل کی ہے کہ وہ اس شخص کے قریب مت جائیں۔ حکام کے مطابق وہ شخص ممکنہ طور پر مسلح ہے.
کلیولینڈ پولیس نے اپنی ویب سائٹ پر مسٹر سٹیفن کی ایک تصویر جاری کی ہے جس میں ان کا قد چھ فٹ ایک انچ بتایا گیا ہے اور وہ سیاہ فام ہیں جس کی رنگت درمیانے درجے میں آتی ہے۔
ان کے بارے میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ وہ ایک سفید یا بادامی رنگ کی ایس یو وی گاڑی چلا رہے ہیں۔
مسٹر ولیئمز نے کہا کہ مقتول کو بغیر کسی وجہ کے اچانک چن لیا گيا ہے اور انھوں نے اسے بے معنی قتل قرار دیا ہے۔
انھوں نے مزید کہا کہ مسٹر سٹیفن کو واضح طور پر مسئلہ ہے اور اس پر زور دیا ہے کہ وہ آگے آئے تاکہ اس کو وہ مدد فراہم کی جاسکے جس کی اسے ضرورت ہے۔
سی این این کے مطابق امریکی تفتیشی ادارہ ایف بی آئی مقامی پولیس کے ساتھ تفتیش میں تعاون کر رہا ہے۔
کلیو لینڈ کے ميئر فرینک جیکسن نے کہا کہ مسٹر سٹیفن جان لیں کہ اسے بالآخر انھیں پکڑ لیا جائے گا۔
خیال رہے کہ فیس بک پر براہ راست قتل کے دکھائے جانے کا یہ کوئی پہلا واقعہ نہیں ہے۔ گذشتہ سال جون میں شکاگو کی ایک سڑک پر ایک شخص نے فیس بک لائیو کے دوران خود کو گولی مار کر حودکشی کر لی تھی، جبکہ مارچ میں ایک نا معلوم شخص نے براہ راست نشریات میں 16 بار فائرنگ کی تھی۔
فیس بک لائیو میں کسی بھی شخص کو ریئل ٹائم میں براہ راست نشر کی سہولت فراہم رہتی ہے۔ یہ سہولت سنہ 2010 میں شروع کی گئي تھی لیکن اب اس کا رواج عام ہوچکا ہے

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں