پاک افغان بارڈر پر افغان فورسز کی فائرنگ سے ہلاک ہونے والوں کی تعداد آٹھ ہو گئی

تازہ ترین اطلاعات کے مطابق پاک افغان سرحدی علاقے پر افغان فورسز کی فائرنگ اور گولہ باری سے آٹھ پاکستانی شہید اور 19 افراد زخمی ہو گئے ہیں
آئی ایس پی آرکے مطابق افغان فورسز نے چمن کے سرحدی علاقے میں پاکستانی چیک پوسٹوں پر فائرنگ کی اور گولے برسائے، افغان فورسز کی جانب سے داغے گئے گولے گلدار باغیچہ اور اڈہ کہول میں دو مکانات پر گرنے سے 6 بچوں اور 3 خواتین سمیت 19 افراد زخمی ہو گئے جب کہ آٹھ جابحق ہو گئےہیں.
آئی ایس پی آر کا کہنا ہے کہ افغان فورسز کی کارروائی میں زخمی ہونے والوں کو طبی امداد کے لئے سول اسپتال چمن منتقل کر دیا گیا ہے جب کہ شدید زخمیوں کو علاج کے لئے کوئٹہ منتقل کیا جا رہا ہے۔ چمن انتظامیہ نے اسپتال میں میڈیکل ایمرجنسی نافذ کر کے تمام عملے کی چھٹیاں منسوخ کر دی ہیں۔
افغان فورسز کی جانب سے سول آبادی میں گولہ باری سے علاقے میں شدید خوف و ہراس پھیلا ہوا ہے اور صبح سویرے کھلنے والے باراز بند ہیں جب کہ پاکستانی فورسز کی جانب سے بھی افغان فورسز کی فائرنگ اور گولہ باری کا بھرپور جواب دیا جا رہا ہے۔
واضح رہے کہ کچھ عرصے قبل بھی پاک افغان سرحد پر کشیدگی کے باعث پاکستان نے افغانستان سے ملحقہ چمن اور تورخم بارڈر کو ایک ماہ تک بند کئے رکھا تھا اور پھر افغان حکام کی جانب سے تعاون کی یقین دہانی کے بعد وزیراعظم نواز شریف کی ہدایت پر سرحدوں کو کھولا گیا تھا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں