احاطہ عدالت میں سیاسی رہنماؤں کی میڈیا سے گفتگو پر چیف جسٹس برہم

مسلم لیگ (ن) کے رہنما حنیف عباسی کی جانب سے عمران خان اور جہانگیر ترین کے خلاف دائر درخواست کی سماعت چیف جسٹس ثاقب نثار کی سربراہی میں ہوئی۔ اس موقع حنیف عباسی کے وکیل اکرم شیخ کا کہنا تھا کہ میڈیا پر گفتگو سے منع کرنے کے باوجود تحریک انصاف کے رہنمانعیم الحق نے احاطہ عدالت میں بات چیت کی جو توہین عدالت کے زمرے میں آتا ہے۔
چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ کسی کے اختیارات میں تخصیص نہیں چاہتے لیکن منع کرنے کے باوجود احاطہ عدالت میں گفتگو بڑی بدقسمتی ہے، باہر جاکر جو مرضی کریں لیکن عدالتی احاطے میں ایسا نہ کریں، میڈیا نمائندوں کو کیس رپورٹ کرنے کی مکمل اجازت ہے۔
چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ ایک امریکی اسکالر نے کہا تھا کہ سیاسی گند کو عدالتی لانڈری میں نہیں دھلنا چاہیے لیکن معاملات عدالت میں آ چکے، ہم انہیں مناسب طریقے سے لے کر چلیں گے۔
جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ کیس کارروائی میں بات کرنے کے لئے سب سے بہترین شخص وکلاء ہیں جب کہ تحریک انصاف کے وکیل انور منصور کا کہنا تھا کہ اپنے پورے کیرئیر میں زیر التوا کیسز پر کبھی بات نہیں کی، جس پر جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ فریقین کو اپنی رائے کا اظہار کرنے کے لئے عدالتی کارروائی کا سہارا نہیں لینا چاہیئے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں