آپوزیشن کا قومی اسمبلی سے واک آؤٹ

حکومت کی جانب سے قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف خورشید شاہ کی بجٹ تقریر براہ راست دکھانے سے انکار پر
اپوزیشن نے ایوان سے واک آؤٹ کیا۔
قومی اسمبلی کا اجلاس اسپیکر ایاز صادق کی زیر صدارت شروع ہوا جس میں وزیرخزانہ اسحاق ڈار نے بجٹ تقریر کی جو براہ راست دکھائی گئی جس کے بعد اپوزیشن لیڈر خورشید شاہ نے بھی اپنی تقریر براہ راست دکھانے کا مطالبہ کیا جسے رد کردیا گیا جس پر خورشید شاہ کا کہنا تھا کہ معلوم نہیں حکومت میری تقریر کیوں نہیں دکھانا چاہتی ، آپ خود بولیں اور ہمارے منہ پر تالا لگائیں اور خود تو دوڑ لگادیں اور ہمارے ہاتھ پاؤں باندھ دیں اگر ایسا ہی کرنا ہے تو ہم چلے جاتے ہیں، آپ بجٹ منظور کرالیں۔
خورشید شاہ نے وزیرخزانہ کی جانب سے بجٹ تقریر میں پڑھا شعر واپس لینے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ اسحاق ڈار نے جو شعر پڑھا وہ مساوات کا درس دیتا ہے، آپ یہ شعر واپس لے لیں تو تقریر کرنے کو تیار ہوں۔
دوسری جانب وزیرمملکت برائے اطلاعات ونشریات مریم اورنگزیب نے کہا کہ 2008 سے کسی اپوزیشن لیڈر کی تقریر براہ راست نہیں ہوئی، شاہ صاحب کی تقریر کا پیکچ چلایا جائے گا۔
ادھر اسحاق ڈار خورشید شاہ کے مطالبے پر جذباتی ہوگئے اور شعر واپس لینے سے انکار کرتے ہوئے کہا کہ گردن تو کٹ سکتی ہے مگر شعر واپس نہیں ہوسکتا جب کہ خورشید شاہ کی براہ راست تقریر پر بچی نے وضاحت کردی ہے، اس پر اب مسئلہ نہیں ہونا چاہیے۔ مریم اورنگزیب کو بچی کہنے پراپوزیشن نے اسحاق ڈار کو کڑی تنقید کا نشانہ بنایا تو وزیرخزانہ نے موقف اختیار کیا کہ وہ میری بیٹی ہے،میں اس کو اپنی بچی کہہ سکتا ہوں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں