آج کی بات

دل،کے بعض مریضوں کی عادت ہوتی ہے کہ اکثر اپنی نبض پر ھاتھ رکھے بیٹھے ھوتے ہیں اور پریشان ہوتے رہتے ہیں کہ دل کی رفتار تیز ھو گئی ہے یا آہستہ ھو گئی ہے یا دل رک رک کر چل رہا ھے ۔
اسی طرح تھوڑی تھوڑی دیر بعد اپنا بلڈپریشر خود ھی چیک کرتے رہتے ہیں ۔اور بلڈ پریشر میں اتار چڑھاؤ سےگھبرا کر اپنے دل کی رفتار تیز کر لیتے ہیں ۔
آپ دل کے مریض ہیں یا نہیں ۔ دو کام آپ نے کبھی نہیں کرنے !
ایک یہ کہ اپنی نبض خود سے کبھی چیک نہ کریں اور دوسرا اس سے بھی اہم کہ اپنا بلڈپریشر کبھی بھی خود سے چیک نہ کریں ۔ا گر آپ ڈاکٹر ہیں یا میڈیکل کے کسی اور شعبے سے وابستہ ہیں تب بھی نہ کریں ۔
اگر آپ نے اپنے ڈاکٹر سے اپنا معائنہ کروالیا ہے اور انہوں نے ہر چیز کو تسلی بخش قرار دیا ہے تو پھر نبض اور بلڈ پریشر کو خود سے بار بار چیک کرنا ، نفسیاتی مسئلے کے سوا کچھ نہیں ۔اور اس کو آپ نے خود ھی ٹھیک کرنا ہے کیونکہ مسئلہ اور بیماری ، اس میں فرق ھوتا ہے ۔

ڈاکٹر سید جاوید سبزواری ۔

کیٹاگری میں : صحت

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں