آئی جی پولیس مشتاق سکھیرا کے خلاف توہین عدالت کی درخواستوں کی تعداد 133ہوگئی

لاہور(مانیٹرنگ ڈیسک)؛آئی جی پنجاب مشتاق سکھیرا کی ریٹائرمنٹ میں1 روز باقی رہ گئے تاہم ان کے خلاف ہائی کورٹ میں توہین عدالت کی درخواستوں کا سلسلہ تھم نہ سکا، توہین عدالت کی ایک مزیددرخواست دائرہونے کے بعدان کے خلاف درخواستوں کی تعداد 133ہوگئی ہے۔
یہ درخواست انویسٹی گیشن ہیڈ کوارٹر لاہور میں تعینات سب انسپکٹر سید عظمت مہدی کی طرف سے دائر کی گئی ہے ،جسٹس علی باقرنجفی نے سرکاری وکیل کی یہ استدعا مسترد کردی کہ نامکمل ہونے کی بنا پر توہین عدالت کی یہ درخواست مسترد کی جائے۔درخواست گزارنے موقف اختیارکیاہے کہ سینئر اورمیرٹ پرپورا اترتے کے باوجود اسے انسپکٹر کے عہدے پرترقی نہیں دی گئی، جس پراس نے آئی جی پنجاب کو محکمانہ ترقی کے لئے9 مئی2008کو درخواست دی لیکن شنوائی نہ ہوسکی جس پراس نے لاہورہائیکورٹ سے رجوع کیا۔درخواست گزار کاکہناتھاکہ عدالت نے 3 فروری 2017کودرخواست نمٹاتے ہوئے آئی جی پنجاب کو محکمانہ ترقی کے حوالے سے زیرالتواءدرخواست پرایک ماہ میں فیصلہ کرنے کاحکم دیا۔
عدالتی حکم کے باوجود آئی جی پنجاب نے زیرالتواءدرخواست پرفیصلہ نہیں کیا۔عدالت سے استدعاکی گئی کہ حکم عدولی پرآئی جی پنجاب سمیت دیگرذمہ داروں کے خلاف توہین عدالت کی کارروائی کی جائے۔ اسسٹنٹ ایڈووکیٹ جنرل محمد اعجاز نے عدالت کو بتایاکہ درخواست گزارسب انسپکٹر کی محکمانہ ترقی کے لئے دی گئی درخواست آئی جی آفس کو موصول نہیں ہوئی اورنہ ہی توہین عدالت کی درخواست کے ساتھ اس کی نقل کو لف کیاگیا ہے۔ سرکاری وکیل نے استدعا کی کہ آئی جی پنجاب کے خلاف توہین عدالت کی درخواست نامکمل ہونے کی بناءپرخارج کی جائے۔
عدالت نے لاءافسر کی جانب سے آئی جی پنجاب کے خلاف توہین عدالت کی درخواست خارج کرنے کی استدعا مسترد کردی۔عدالت نے درخواست گزاروکیل کو ہدایت کی کہ وہ آئی جی پنجاب کو محکمانہ ترقی کے لئے دی گئی درخواست کی نقل 17اپریل سے قبل عدالت میں پیش کی جائے جس کے بعد اس کیس کی مزید سماعت ہوگی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں